’مسلم نوجوان یو اے پی اے قانون کے شکار‘

Image caption منیشا سیٹھی نے اپنی رپورٹ کو کتابی شکل دی ہے جس میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں پر تحقیق ہے

دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں اساتذہ کی ایک تنظیم جے ٹی ایس اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون (يواے پی اے) کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

گذشتہ دنوں دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین وجاہت حبیب اللہ ، انسانی حقوق کے معروف کارکن بنايك سین اور انسانی حقوق کے وکیل اشوک اگروال نے یہ رپورٹ ریلیز کی۔ کتابی شکل میں یہ ’گلٹ بائی ایسوسی ایشن‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں سنہ 2001 سے لے کر اب تک تقریباً 80 ایسے معاملات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں جے ٹی ایس اے کے مطابق مدھیہ پردیش پولیس نے ’نعرے لگانے‘، ’پوسٹر چسپاں کرنے‘، یا ممنوعہ تنظیم سیمی کے مبینہ حامی ہونے کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا ہے۔

مدھیہ پردیش کی حکومت یا ریاستی پولیس نے ابھی تک اس رپورٹ پر ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

تنظیم کی صدر اور رپورٹ کی مصنفہ منیشا سیٹھی نے رپورٹ کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 2011 کے ایک واقعے نے انہیں اس رپورٹ کی تیاری کی تحریک دی۔

منیشا سیٹھی کے مطابق مدھیہ پردیش کے كھنڈوا میں سنہ 2011 میں کئی مسلم نوجوانوں کو یواے پی اے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار کیے جانے والے نوجوانوں کے اہل خانہ کی درخواست پر جامعہ کی ٹیم نے وہاں کا دورہ کیا تھا۔

منیشا کے مطابق ان کی ٹیم کو وہاں جاکر یہ معلوم ہوا کہ پولیس کے بیان اور متاثرہ خاندان والوں کے بیانات میں بین فرق ہے اس لیے انھوں نے مکمل تحقیق کا فیصلہ کیا اور دو سال میں یہ رپورٹ مکمل ہوئی۔

مدھیہ پردیش کے بارے میں منیشا کا کہنا تھا: ’جب بھی پولس زیادتیوں کی بات آتی ہے تو حیدرآباد کی مکہ مسجد دھماکے یا پھر مہاراشٹر کے مالیگاؤں دھماکے کے بعد گرفتار کیے جانے والے مسلم نوجوانوں کا ذکر آتا ہے لیکن کوئی مدھیہ پردیش میں يواے پی اے کے تحت گرفتار مسلم نوجوانوں کی بات نہیں کرتا۔‘

اقلیتی کمیشن کے چیئرمین حبیب اللہ نے کہا کہ يو اے پی اے قانون پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے مطابق قانونی طور پر اس میں کئی قسم کی خامیاں ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس بابت وہ پہلے ہی کمیشن میں بات اٹھا چکے ہیں اور ان کی بات کو اس رپورٹ سے مزید تقویت ملے گی۔

رپورٹ کی ریلیز کے موقع پر پی یو سی ایل کے نائب صدر بنايك سین نے کہا کہ ’پورے ملک میں ایک برادری کو مخصوص شناخت کے تحت دیکھنے کا رجحان پایا جاتا ہے اور مستقبل میں اس کا مہلک اثر ہو سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ تشویش کی بات تو یہ ہے کہ ملک کے عدالتی نظام نے بھی اس طرح کی کوشش میں خود کو استعمال ہونے دیا ہے۔

واضح رہے کہ بنايك سین کو بھی چھتیس گڑھ ریاست کی پولیس نے ماؤ نواز گروہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں يو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ذیلی عدالت نے انہیں مجرم ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا بھی سنائی تھی۔ بعد میں سپریم کورٹ سے انہیں ضمانت ملی تھی۔

انسانی حقوق کے وکیل اشوک اگروال نے کہا کہ ’یہ متنازع قانون تقریبا 100 سال پرانا ہے جسے انگریزوں نے بنایا تھا اور آزادی کے بعد بھی حکومتوں نے اسے اب تک نافذ کر رکھا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں اسی قسم کے حالات ہیں جیسے 1980 کی دہائی میں پنجاب میں تھی جہاں پولیس کثیر تعداد میں نوجوانوں کو گرفتار کر رہی تھی۔

اسی بارے میں