کام ایسا کیجیے جس میں خطرہ کم اور فائدہ زیادہ ہو

فیئر ویل سچن!

Image caption پاکستان کے سابق کپتان میانداد کا کہنا ہے کہ تندولکر کی کمی محسوس نہیں ہوگی

تو آخر وہ گھڑی آہی گئی جس کا کچھ کو ڈر تھا اورکچھ کو بے صبری سے انتظار!

کبھی نہ کبھی تو یہ ہونا ہی تھا، زندگی کا یہی دستور ہے۔ سچن تندولکر کا آخری ٹیسٹ میچ اب بس شروع ہونے کو ہے، اور جب یہ میچ ختم ہوجائے گا، جو زیادہ سے زیادہ پانچ دن میں ہونا ہی ہے، تو سوا ارب لوگوں کی زندگی میں ایسا خلا پیدا ہوگا جسے روہت شرما اور محمد شامی مل کر بھی پورا نہیں کر پائیں گے۔ کم سے کم اخبارات سے تو یہی تاثر مل رہا ہے۔

لیکن ایک شخص ایسا بھی ہے جو ’پولیٹکلی کریکٹ‘ باتیں کرنا نہیں جانتا۔ اس لیے جاوید میانداد نے کہا ہے کہ سچن کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کی کمی محسوس نہیں ہوگی کیونکہ انڈین ٹیم میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور سچن کو دو سال پہلے ہی ریٹائر ہوجانا چاہیے تھا۔ رک کر سچن نے وہ ہی غلطی کی ہے جو خود انہوں نے کی تھی۔

جاوید بھائی، پلیز، کبھی کبھی موقعے کی نزاکت کو بھی سمجھنا چاہیے۔ سچن اس وقت سے انڈین کرکٹ کی خدمت کر رہے ہیں جب وہ معصوم بچے تھے۔ کرکٹ بورڈ کےاہلکار اتنے بااثر نہ ہوتے تو شاید چائلڈ لیبر کےالزام میں جیل جا سکتے تھے!

بہت سے لوگوں کا لمبا انتظار بس اب ختم ہونے دیجیے اور دعا کیجیے کہ وہ آگے زندگی میں جو بھی کریں اس میں کامیاب رہیں اور سال چھ مہینے بعد ریٹائرمنٹ ختم کرکے ٹیم میں واپس آنے کی کوشش نہ کرنے لگیں! وہ کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں کرکٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا:

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

انصاف کا ترازو

Image caption امتحان میں چوری کے پندرہ سال پرانے واقعے پر تین سال کی ‎سزا

مریخ کے لیے انڈیا کا تاریخ ساز مشن ہو یا سیاسی افق پر نئے چمکتے ہوئے ستارے، بڑے لوگوں کے بڑے کارناموں کا ذکر تو آپ پڑھتے ہی رہتے ہیں لیکن آج یہ ڈائری ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جس کا آپ نے نام بھی نہیں سنا ہوگا۔

آصف نے پندرہ سال پہلے دسویں کا امتحان دیا تھا۔ شاید تیاری پوری یا بالکل نہیں تھی، اس لیے اپنی جگہ کسی دوسرے بچے کو امتحان دینے بھیج دیا۔ دونوں کی شکلیں زیادہ نہیں ملتی تھیں اس لیے پیپر کے دوران یہ لڑکا پکڑا گیا۔ مقدمہ قائم ہوا اور اب پندرہ سال کی سماعت کے بعد دہلی کی ایک عدالت نے آصف کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے!

اس دوران آصف نے شادی کرلی اور اب تین بچے بھی ہیں۔ آصف کی کہانی سے کئی سبق ملتے ہیں۔ انڈیا میں آپ اور کچھ بھی کر لیں لیکن بورڈ کے امتحان میں نقل نہ کریں کیونکہ نقل کرنے والے کو یہاں بخشا نہیں جاتا۔

اور اگر کریں بھی تو پھر شادی نہ کریں کیونکہ پندرہ سال بعد جب جیل جانا پڑے گا تو بیوی بچوں کو بہت پریشانی ہوگی۔ اگر قانون توڑنا آپ کا شوق یا مجبوری ہے تو آپ میچ فکسنگ کرسکتے ہیں جس کے لیے انڈیا میں آج تک کبھی کسی کو کسی عدالت میں سزا نہیں ہوئی ہے۔

اگر آپ جیل جانے سے نہیں ڈرتے تو سرکاری خزانہ بھی لوٹ سکتے ہیں۔ سزا زیادہ سے زیادہ پانچ سال، چاہیں تو لالو پرساد یادو سے پوچھ لیں، کم سے کم بڑھاپا تو آرام سے گزرے گا۔ جرائم کی فہرست لمبی ہے لیکن آپ کو پیغام مل ہی گیا ہوگا۔ کام ایسا کیجیے جس میں خطرہ کم اور فائدہ زیادہ ہو اور سکول کا سرٹیفکیٹ لازمی نہ ہو۔

انڈین کرنسی یا پاکستانی؟

Image caption جعلی بھارتی کرنسی کا معاملہ بارہا اخبارات میں سامنے آتا رہتا ہے

یہ الزام تو پرانا ہے لیکن اب اخباری اطلاعات کے مطابق انڈیا کے خفیہ اداروں نے پارلیمان کی ایک کمیٹی کو بریفنگ دی ہے کہ انڈیا میں جو جعلی کرنسی نوٹ گردش میں ہیں، ان کے معیار سے صاف ظاہر ہے کہ یہ پاکستان کی سرکاری پریس میں چھاپے جاتے ہیں۔

یہ الزام کس حد تک درست ہے یہ تو شاید کبھی معلوم نہیں ہو پائے گا لیکن کچھ دلچسپ سوال ضرور اٹھتے ہیں۔

کیا انڈین کرنسی کی قدر اسی لیے حیرت انگیز طور پر کم ہوئی ہے کیونکہ یہ نوٹ اسی پریس میں چھپ رہے ہیں جہاں کمزور تر پاکستانی کرنسی چھپتی ہے؟ اور اگر وہاں چھپائی کا معیار اتنا ہی اچھا ہے تو حکومت کرنسی کی چھپائی کا پورا ٹھیکہ ہی پاکستان کو کیوں نہیں دے دیتی؟ ایسا کرنے سے کچھ اور نہیں تو کم از کم جعلی نوٹوں کا مسئلہ ہی ختم ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں