سرتاج عزیز کی بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے بدھ کی صبح دلی میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی ہے تاہم اس ملاقات کی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔

ذرائع کے مطابق یہ ایک ’کرٹسی کال‘ تھی جس کی خواہش سرتاج عزیز نے ظاہر کی تھی اور بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے منگل کی شام کہا تھا کہ انہیں مجوزہ ملاقات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔

خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز یورپی اور ایشیائی وزرائے خارجہ کے اجلاس (ایس ایس ای ایم) میں شرکت کے لیے دلی آئے ہوئے ہیں اور دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن کے مطابق وہ بدھ کی شام اسلام آباد لوٹ جائیں گے۔

منگل کی شام وزیر خارجہ سلمان خورشید سے ملاقات کے بعد سرتاج عزیز قومی سلامتی کے مشیر شو شنکر مینن سے بھی ملے تھے۔

جناب سرتاج عزیز سے اپنی ملاقات میں وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا تھا کہ باہمی مذاکرات میں پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ بھارت کے نظریات اور احساسات کا احترام کیا جائے اور یہ کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

ملاقات میں اس بات کا اعادہ بھی کیا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز کو ’جلدی‘ ملنا چاہیے۔ وزیرِاعظم من موہن سنگھ اور میاں نواز شریف نے نیویارک میں اپنی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا تھا لیکن ڈیڑھ مہینہ گزر جانے کے باوجود اس فیصلہ کو عملی شکل نہیں دی جاسکی ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ نے سرتاج عزیز اور سلمان خورشید کی ملاقات کو زیادہ اہمیت نہیں دی ہے کیونکہ یہ بات چیت اے ایس ای ایم کے اجلاس کے دوران ہوئی اور بات چیت میں کسی ٹھوس پیش رفت کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔

مقامی اخبارات نے کہا گیا ہے کہ سلمان خورشید نے کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات کرنے پر سرتاج عزیز سے کہا کہ انہیں ہندوستان کے احساسات کا احترام کرنا چاہیے۔ اردو کے اخبار ہندوستان کی سرخی ہے ’پاکستان کے حالیہ اقدامات نقصان دہ۔۔۔ علیحدگی پسند قیادت سےملاقات پر سلمان خورشید کا اظہار ناپسندیدگی۔‘

ٹائمز آف انڈیا کی سرخی ہے کہ ’خورشید نے عزیز سے سختی سے بات کی۔‘

سرتاج عزیز نے اتوار کی شام کمشیر کے سرکردہ علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت تنقید کی اور یہ معاملہ بعد میں ایک تنازع بن گیا۔ حالانکہ حریت کی قیادت سے دلی میں پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

اسی بارے میں