بھارت سے سب ناراض کیوں؟

بھارت کے وزیرخارجہ سلمان خورشید دولتِ مشترکہ کے سربراہان حکومت کی کانفرنس میں شرکت کے لیے ان دنوں کولمبو میں ہیں۔ گذشتہ دنوں وہ سری لنکا کےاقلیتی تمل آبادی والے علاقے جافنا میں تھے جہاں بھارت جنگ سے تباہ حال خطے میں تملوں کے لیے پچاس ہزار سے زیادہ مکان تعمیر کر رہا ہے ۔

سلمان خورشید نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وزیرا عظم من موہن سنگھ جافنا نہیں آسکے۔ مسٹر سنگھ کو سربراہان حکومت کی اس کانفرنس میں شرکت کرنا تھا لیکن وہ تمل ناڈو کی علاقائی جماعتوں کی مخالفت کے سبب کولمبو نہیں گئے۔ تمل جماعتیں سری لنکا پر اقلیتی تملوں کے ساتھ جنگی جرائم کا الزام لگا رہی ہیں۔

طویل خانہ جنگی اور ہزاروں افرادکی ہلاکت کے بعد سری لنکا کی افواج نے ملک کے شمال میں قابض تمل شدت پسندوں کو شکست دی تھی۔ بھارت نے پہلے تو تمل شدت پسندوں کی پشت پناہی کی اور سری لنکا میں علیحدہ ریاست کی تشکیل کی ان کی تحریک کی حمایت کی۔ لیکن چند ہی برس میں اس نے اپنا موقف اس حد تک تبدیل کیا کہ اپنے حمایت یافتتہ تمل باغیوں کو کچلنے کے لیے بھارت نے اپنی فوج تک سری لنکا میں اتار دی۔

تمل ٹائیگرز کو بھارت دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے لیکن تمل ناڈو کی تقریباً سبھی جماعتیں کھل کر یا بالواسطہ طور پر اس کی حمایت کرتی ہیں۔

من موہن سنگھ کے دس سالہ دور اقتدار میں حکومت نے اپنے پڑوسیوں کے لیے جو پالیسی اختیار کی اس کا مقصد سبھی ملکوں سے تعلقات کو پہلے سے بہتر بنانا تھا۔ لیکن اگر ان تعلقات کی نوعیت کا آج جائزہ لیا جائے تو بھارت کے سبھی پڑوسی ممالک بھارت سے یا تو نالاں ہیں یا پھر ان کے تعلقات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔

نیپال بھارت کا سب سے قریبی ملک رہا ہے۔ آج وہاں عوامی اور سیاسی دونوں سطح پر بھارت کی ساکھ بری طرح مجروح ہو چکی ہے، اور رشتوں میں کسی طرح کی گرم جوشی اور گہرائی باقی نہیں بچی ہے۔

بنگلہ دیش سے بھارت کی حکومت نے دو اہم معاہدوں کا اعلان کیا۔ ایک معاہدہ حکومت پارلمینٹ سے منظور نہ کروا سکی اور دریا کے پانی سے متعلق دوسرا معاہدہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کو پارلیمانی انتخابات میں ممکنہ شکست کا سامنا ہو سکتا ہے۔

واجپئی حکومت نے پاکستان سے بہتر تعلقات کی بنیاد قائم کی تھی۔ امید تھی کہ من موہن سنگھ کی حکومت اسے اور آگے لے جائے گی۔ لیکن ان تعلقات کو دہشت گردی کے حملوں اور کنٹرول لائن پر کشیدگی سے زک پہنہچی۔ پاکستان کی جانب سے مثبت اشاروں کے باوجود حالات بہتر کرنے کے لیے من موہن سنگھ کی حکومت کبھی سیاسی عزم مجتمع نہ کر سکی ۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات پچھلے پانچ برسوں سے انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ من موہن سنگھ کی حکومت کے باقی ماندہ دور میں فوری طور پر کسی تبد یلی کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

چین سے بھارت کے تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ گذشتہ پانچ برسوں میں چین سرحدی تنازعے کے سلسلے میں اپنی پوزیشن بہت واضح طور پر اجاگر کرتا رہا ہے۔ چینی فوجیں اکثر بھارتی خطے میں آتی ہیں اور کئی مقامات پر وہ ایسے علاقوں میں بیٹھی ہوئی ہیں جنہیں بھارت اپنا حصہ مانتا ہے۔ پچھلے دس برس میں چین سے بارہا مذاکرات ہوئے ہیں، بڑے بڑے رہنماؤں کی ملاقاتیں ہوئی ہیں لیکں آج چین سے بھارت کے تعلقات پہلے کی نسبت مزید شک و شبہات کا شکار ہیں۔

چھوٹا سا ملک بھوٹان پوری طرح بھارت کے اثر میں رہا ہے یہاں تک کہ اس کے لیے بھارت کے بجٹ میں ایک حصہ مختص ہوتا ہے۔ بھارت نے بھوٹان کے داخلی اور خارجی امور کو ہمیشہ اپنی گرفت میں رکھا ہے۔ لیکن جب سے بھوٹان نے چین سے سفارتی سطح پر تعلقات بڑھانے کا اشارہ کیا ہے تب سے دہلی میں کئی شخصیات کی بے چینی نمایاں ہے۔

گذشتہ دس برس میں بھارت کی حکومت نے جو خارجہ پالیسی اختیار کی وہ ابہام کا شکار رہی ہے۔ اس پالیسی کی کوئی سمت نہیں تھی۔ بین الاقوامی تعلقات میں بھارت اتنا بے اثر اور کمزور کبھی نہیں نظر آیا جتنا گذشتہ دس برس میں من مو ہن سنگھ کے دور اقتدار میں رہا۔

اسی بارے میں