’شیشے کے گھر والوں کو پتھر نہیں پھینکنے چاہییں‘

Image caption سری لنکا کے صدر نے حکومت کے ناقدین پر الزام عائد کیا کہ وہ خانہ جنگی میں ہونے والی ہلاکتوں سے صرفِ نظر کر رہے ہیں۔

سری لنکا کے صدر مہندا راج پکشے نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیقات کے برطانوی مطالبے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ ’شیشے کے گھر میں رہنے والوں کو دوسروں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہئیں۔‘

یہ بات سری لنکا کے صدر نے دولت مشترکہ اجلاس کے دوسرے روز کہی۔

سری لنکا ’فراخدلی اور اعلیٰ ظرفی‘ کا مظاہرہ کرے

اس سے پہلے برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سری لنکن صدر مہندا راج پکشے سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ انسانی حقوق کے خلاف جرائم کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں بصورتِ دیگر اقوامِ متحدہ اس معاملے کی تحقیقات کرے گا۔

سری لنکن حکومت پر الزام ہے کہ اس نے سنہ دو ہزار نو میں تمل باغیوں کے خلاف جنگ کے دوران انسانی حقوق کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔

حکومت کے حامی مبصرین نے برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو کوئی اخلاقی حق نہیں ہے کہ وہ سری لنکا پر تنقید کرے۔

سری لنکا کے صدر نے ’بلڈی سنڈے‘ کے نام سے جانے جانے والے اس دن کی جانب اشارہ کیا جب سنہ 1972 میں شمالی آئرلینڈ میں برطانوی فوج کے ہاتھوں تیرہ شہری ہلاک ہوئے تھے۔

انہوں نے دو ہزار دس میں آنے والی اس رپورٹ کا ذکر کیا جس کے مطابق ذمہ داری فوج پر عائد کی گئی اور کہا کہ ’بعض تحقیقات میں چالیس سال لگ جاتے ہیں‘۔

انہوں نے سری لنکن حکومت کے نقادوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے خانے جنگی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے صرفِ نظر کیا ہے۔

’انہوں نے کہا’تیس سال سے ہر روز لوگ مر رہے تھے۔ سو ہم نے اسے ختم کیا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ہم اپنا وقت لیں گے اور ہم تیس سالہ جنگ کی تحقیقات کریں گے۔‘

سری لنکا کے صدر مہندا راج پکشے نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد امن آیا ، استحکام اور زیادہ خوشخالی کے امکانات پیدا ہوئے۔

راج پکشے کی کابینہ کے سینیئر وزیر باسل پکشے نے کہا کہ اس طرح کی تحقیقات کی یقینی طور پر اجازت نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ 2009 میں ختم ہوئے خانہ جنگی کے آخری مرحلے میں تملوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔

Image caption کیمرون نے معروف کرکٹ کھلاڑی مرلی دھرن سے بھی ملاقات کی، جو کہ تامل ہیں

اس سے پہلے تمل اکثریتی علاقے کے دورے سے واپس آئے کیمرون نے سری لنکا کے صدر سے خانہ جنگی سے متعلق انسانی حقوق کے معاملات پر آگے بڑھنے اور تیزی لانے کی اپیل کی تھی۔

ملک کے اقلیتی تمل کمیونٹی کی پریشانیوں کو جاننے کے لیے شمالی سری لنکا کے دورے سے واپس آئے کیمرون نے مہندا پکشے سے ملاقات بھی کی تھی۔

کیمرون نے کہا تھا کہ اگر سری لنکا کی حکومت تحقیقات کے لیے تیار نہیں ہوتی ہے تو وہ اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالیں گے کہ مارچ میں ہونے والی انسانی حقوق کونسل کی اس کی اگلی میٹنگ میں تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔

ڈیوڈ کیمرون ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ میں مانتا ہوں کہ اس میں وقت لگے گا لیکن مجھے لگتا ہے کہ صحیح سمت میں جانا ہی اہم ہے۔

کیمرون نے معروف کرکٹ کھلاڑی مرلی دھرن سے بھی ملاقات کی، جو کہ تمل ہیں ۔سپن بالر مرلی نے کیمرون کے سری لنکا دورے کے خیال کی حمایت کی تھی۔

تاہم، بعد میں انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات کے بارے میں کیمرون کو گمراہ کیا گیا ہے۔

مرلی نے کہا،’ضرور انہیں کچھ لوگوں نے ورغلایا ہے۔ لوگ بغیر زمینی حالات دیکھے بولتے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، وہاں حالات بہتر ہوئے ہیں۔‘

سری لنکا میں موجود بی بی سی کے سیاسی ایڈیٹر نک رابنسن نے کہا کہ یہ بالکل صاف ہے کہ ڈیوڈ کیمرون اور مہندا پکشے کے درمیان ملاقات بہت کشیدہ اور تلخ رہی۔

اسی بارے میں