چین: سنکیانگ میں تھانے پر حملہ، 11 ہلاک

Image caption سنکیانگ میں نوے لاکھ ایغور مسلمان آباد ہیں

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے مغربی صوبے سنکیانگ میں ایک تھانے پر حملہ کرنے والے نو افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے زنہوا کے مطابق یہ حملہ کاشغر کے نزدیک باچو کاؤنٹی کے علاقے سریکبویا میں سنیچر کو پیش آیا اور اس میں دو پولیس اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

زنہوا کے مطابق حملہ آور کلہاڑیوں اور چاقوؤں سے مسلح تھے اور حملے میں دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

چینی صوبے سنکیانگ میں مسلم ایغور آبادی کی اکثریت ہے اور رواں برس یہاں حالات کشیدہ رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ بیجنگ کے تیانامن سکوائر پر ہجوم پر گاڑی چڑھانے کے واقعے میں بھی چینی حکام نے اسی صوبے میں سرگرم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

چین سنکیانگ میں ہونے والے پرتشدد کارروائیوں کے لیے بھی اسی تنظیم کو الزام دیتا ہے جبکہ ایغور مسلمانوں کا کہنا ہے کہ چین صوبے میں جبری سکیورٹی کے لیے اس تنظیم کا نام بطور بہانہ استعمال کرتا ہے۔

سنکیانگ میں نوے لاکھ ایغور آباد ہیں جبکہ صوبے میں ہین چینی باشندوں کی اکثریت ہے۔

رواں برس اپریل ، جون اور پھر اگست کے مہینوں میں سنکیانگ میں پرتشدد جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں