جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے سری لنکا کی سنجیدگي ضروری: ولیم ہیگ

Image caption ولیم ہیگ نے سری لنکا میں جاری دولت مشترکہ کے اجلاس سے تیسرے دن خطاب کیا

برطانيہ کے وزير خارجہ وليم ہيگ نے کہا ہے کہ سری لنکن حکومت کے لیے جنگی جرائم کے الزامات کے سلسلے ميں آئندہ برس مارچ سے قبل اپني فوج کے خلاف تحقیقات کرنا ممکن ہے۔

انھوں نے يہ بات سری لنکا ميں جاری دولت مشترکہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔

اس سے قبل برطانيہ کے وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون نے کہا تھا کہ سری لنکا مارچ تک ملک ميں جنگي جرائم کے مبينہ الزامات پر باضابطہ تفتيش کرے نہيں تو پھر برطانيہ بين الاقوامي جانچ کی بات اٹھائے گا۔

’شیشے کے گھر والوں کو پتھر نہیں پھینکنے چاہییں‘

سری لنکا ’فراخدلی اور اعلیٰ ظرفی‘ کا مظاہرہ کرے

کولمبو سے بی بی سی کے نمامہ نگار چارلس ہيولينڈ کا کہنا ہے کہ سری لنکا نے دولت مشترکہ کے اس اجلاس سے يہ اميديں وابستہ کر رکھی تھيں کہ اس کے ذريعے وہ جنگ کے بعد کے زمانے ميں اپنی معيشت کی بحالی کا مظاہرہ کرے گا ليکن اس اجلاس ميں انسانی حقوق کی پامالی اور جنگی جرائم کے الزامات چھائے رہے۔

دريں اثنا برطانوی وزير خارجہ نے کولمبو ميں مقيم سنڈے ٹائمز کے نمائندے سے کہا کہ سری لنکا کي حکومت کے ليے يہ اہم ہے کہ وہ جنگی جرائم کے الزامات کی جانچ کے ليے آئندہ مارچ سے قبل کميٹی قائم کرے۔

انھوں نے کہا کہ ’سری لنکا دنيا کو يہ باور کرائے کہ وہ اس سمت ميں شروعات کر رہا ہے‘ کیونکہ بقول ان کے ’اس سے بہت فرق پڑے گا۔‘

Image caption سری لنکا کے صدر نے حکومت کے ناقدین پر الزام عائد کیا کہ وہ خانہ جنگی میں ہونے والی ہلاکتوں سے صرفِ نظر کر رہے ہیں۔

مزيد برآں انھوں نے کہا کہ برطانيہ اس سلسلے ميں اپنی کوششيں جاری رکھے گا۔ اس کا اثر يہ ہوگا کہ اگر سری لنکا اس ضمن ميں سنجيدہ کوشش کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ برطانيہ کے وزير اعظم کی دھمکی سے بچ جائے گا جس ميں انھوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو بين الاقوامی سطح پر اٹھائيں گے۔

دوسری جانب سری لنکا کے صدر مہندا راج پکشے نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیقات کے برطانوی مطالبے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ ’شیشے کے گھر میں رہنے والوں کو دوسروں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہئیں۔‘

یہ بات سری لنکا کے صدر نے دولت مشترکہ اجلاس کے دوسرے روز کہی۔

سری لنکا کی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے سنہ 2009 میں تامل باغیوں کے خلاف جنگ کے دوران انسانی حقوق کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔

حکومت کے حامی مبصرین نے برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو کوئی اخلاقی حق نہیں ہے کہ وہ سری لنکا پر تنقید کرے۔

سری لنکا کے صدر نے ’بلڈی سنڈے‘ کے نام سے جانے جانے والے اس دن کی جانب اشارہ کیا جب سنہ 1972 میں شمالی آئرلینڈ میں برطانوی فوج کے ہاتھوں تیرہ شہری ہلاک ہوئے تھے۔

انہوں نے دو ہزار دس میں آنے والی اس رپورٹ کا ذکر کیا جس کے مطابق ذمہ داری فوج پر عائد کی گئی اور کہا کہ ’بعض تحقیقات میں چالیس سال لگ جاتے ہیں۔‘

انہوں نے سری لنکن حکومت کے نقادوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے خانے جنگی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے صرفِ نظر کیا ہے۔

’انہوں نے کہا’تیس سال سے ہر روز لوگ مر رہے تھے۔ سو ہم نے اسے ختم کیا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ہم اپنا وقت لیں گے اور ہم تیس سالہ جنگ کی تحقیقات کریں گے۔‘

سری لنکا کے صدر مہندا راج پکشے نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد امن آیا ، استحکام اور زیادہ خوشخالی کے امکانات پیدا ہوئے۔

Image caption کیمرون نے معروف کرکٹ کھلاڑی مرلی دھرن سے بھی ملاقات کی، جو کہ تامل ہیں

راج پکشے کی کابینہ کے سینیئر وزیر باسل پکشے نے کہا کہ اس طرح کی تحقیقات کی یقینی طور پر اجازت نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ 2009 میں ختم ہوئے خانہ جنگی کے آخری مرحلے میں تملوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔

اس سے پہلے تامل اکثریتی علاقے کے دورے سے واپس آئے کیمرون نے سری لنکا کے صدر سے خانہ جنگی سے متعلق انسانی حقوق کے معاملات پر آگے بڑھنے اور تیزی لانے کی اپیل کی تھی۔

ملک کے اقلیتی تامل کمیونٹی کی پریشانیوں کو جاننے کے لیے شمالی سری لنکا کے دورے سے واپس آئے کیمرون نے مہندا پکشے سے ملاقات بھی کی تھی۔

کیمرون نے کہا تھا کہ اگر سری لنکا کی حکومت تحقیقات کے لیے تیار نہیں ہوتی ہے تو وہ اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالیں گے کہ مارچ میں ہونے والی انسانی حقوق کونسل کی اگلی میٹنگ میں تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔

ڈیوڈ کیمرون ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ میں مانتا ہوں کہ اس میں وقت لگے گا لیکن مجھے لگتا ہے کہ صحیح سمت میں جانا ہی اہم ہے۔

کیمرون نے معروف کرکٹ کھلاڑی مرلی دھرن سے بھی ملاقات کی، جو کہ تامل ہیں ۔سپن بالر مرلی نے کیمرون کے سری لنکا دورے کے خیال کی حمایت کی تھی۔

تاہم، بعد میں انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات کے بارے میں کیمرون کو گمراہ کیا گیا ہے۔

مرلی نے کہا،’ضرور انہیں کچھ لوگوں نے ورغلایا ہے۔ لوگ بغیر زمینی حالات دیکھے بولتے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، وہاں حالات بہتر ہوئے ہیں۔‘

سری لنکا میں موجود بی بی سی کے سیاسی ایڈیٹر نک رابنسن نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ ڈیوڈ کیمرون اور مہندا پکشے کے درمیان ملاقات بہت کشیدہ اور تلخ رہی۔

اسی بارے میں