’کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو بھارت کا امریکہ جیسا حشر ہوگا‘

Image caption محبوبہ مفتی کا کشمیر کے بھارت حامی رہنماؤں میں شمار ہوتا ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں رہنماؤں کو دو خانوں میں رکھا جاتا ہے، بھارت کے حامی اور مخالف۔

اپنے خیالات پیش کرنے میں ہمیشہ آگے رہنے والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کا تعلق پہلے خانے سے ہے اور اس تعلق کے باوجود اگر ان کو بھارت سے شکایت ہے تو لوگ اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

دہلی میں بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر کشمیر کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا تو ایک دن بھارت کا وہی حال ہو سکتا ہے جو امریکہ کا ویتنام میں ہوا تھا۔

محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ کشمیر پر 65 برسوں سے فوج اور پولیس فورس کے سہارے راج کیا جا رہا ہے۔ کشمیری خود کو پہلے سے کہیں زیادہ الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں اور بہ ایں سبب آئندہ سال امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی کے اثرات کشمیر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں عسکریت پسندی کم ہوئی ہے لیکن عام نوجوانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے لوگ ملک کی مین سٹریم سے مزید کٹ کر رہ گئے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’اگر اسے روکا نہ گیا تو بھارت کا وہی حال ہوگا جو امریکہ کا ویتنام میں ہوا اور افغانستان میں ہو رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہزاروں نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور بے قصور لوگوں کو قتل کیا گیا ہے۔‘

محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ ’کشمیر میں جمہوریت کمزور ہے۔ کشمیر کا انتظام بس کسی طرح کر لیا جاتا ہے اور کشمیر میں سیلكٹیو ڈیموکریسی چلائی جاتی ہے۔‘

ان کی شکایت ہے کہ ملک کے لیے اٹھائے جانے والے ہر اچھے قدم کو کشمیر میں نافذ نہیں کیا جاتا۔

مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ جب ملک بھر میں ووٹنگ مشین پر ’نو ووٹ‘ کا اختیار دیا گیا تو پورے ملک نے اس کا استقبال کیا، لیکن کشمیریوں کو یہ سہولت نہیں دی گئی۔

وہ کہتی ہیں ’لوگ ڈر گئے ہیں۔ کشمیری پہلے ہی انتخابات کا بائیکاٹ کرتے آئے ہیں۔ اگر لوگوں نے ’نو ووٹ‘ کا بٹن دبایا تو یہ اس بات کا اشارہ سمجھا جائے گا کہ وہ انتخابات کے عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘

Image caption حال ہی میں انھوں کشمیر میں ایک ریلی کی جس میں مذاکرات پر زور دیا

بھارت کے سابق وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی 54 سالہ محبوبہ مفتی کے مطابق کشمیریوں کو ملک کی مین سٹریم سے جوڑنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے ذریعے شروع کیے جانے والی امن کی بحالی کے عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیریوں اور بھارتی حکومت کے درمیان ایک دوسرے کے لیے اعتماد کی کمی ہے جسے دور کرنا اشد ضروری ہے۔

انہوں نے وزیراعظم کے عہدے کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کے بارے میں کہا کہ اگر وہ انتخابی مہم کے لیے کشمیر آتے ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

تاہم مستقبل میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی حمایت وہ اس لیے نہیں کریں گی کیونکہ بی جے پی کشمیر کے لیے دفعہ 370 کی مخالفت کرتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم واجپئی جی کی تعریف اس لیے کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے امن کی بحالی کے لیے بات چیت کی پہل کی تھی۔‘

اسی بارے میں