ایران کا لمبی پرواز والا ڈرون تیار

Image caption پائلٹ کے بغیر پرواز کرنے والا یہ طیارہ تیس گھنٹوں تک پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے: ایرانی وزیر دفاع

ایران نے 1200 میل دور تک پرواز کرنے والا ایسا ڈرون طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو اسرائیل سمیت پورے مشرق وسطیٰ پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

ایران کے وزیر دفاع حسین دہقان نے تہران میں اس نئے ڈرون کی نمائش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پائلٹ کے بغیر اڑنے والا یہ طیارہ مسلسل 30 گھنٹوں تک محو پرواز رہ سکتا ہے۔

ایران نے امریکی ڈرون طیارہ اتار لیا

ایران: امریکی ڈرون کی ٹی وی پر نمائش

ایران کے وزیر دفاع کے مطابق ’فطرس‘ نامی یہ ڈرون طیارہ نگرانی کے علاوہ ہتھیاروں کو بھی لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مغربی ممالک کا اعتراض ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کو ایسا کرنے سے روکنے کی غرض سے ایران پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

جدید ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق ایران کے دعووں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار جوناتھن مارکوس کا کہنا ہے کہ ایران پروپگینڈے کی غرض سے اپنے ہتھیاروں کی صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کے ہتھیاروں کی صلاحیت وہی ہو جو وہ بیان کر رہا ہے۔

ایک وقت تھا جب صرف امریکہ اور اسرائیل ڈرون طیارے تیار کرنے کی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتے تھے۔ امریکہ ڈرون طیاروں کو دہشت گردی کی جنگ میں استعمال کرتا ہے۔ امریکہ کے علاوہ چین سمیت کئی ممالک بھی ڈرون طیارے تیار کرتے ہیں۔

البتہ ایران کا ڈرون تیار کرنے کا دعویٰ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی تیزی سے پھیل رہی ہے۔

فضائی طاقت رکھنے والے ممالک کے خلاف ڈرون کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی مشکل ہے۔ جارجیا نے 2008 میں روس کے خلاف جنگ میں اسرائیل سے حاصل کردہ ڈرون طیاروں کو استعمال کرنا چاہا لیکن روس نے ان طیاروں کو باآسانی ختم کر دیا۔

اسی بارے میں