بھارت چین سرحد پر 50 ہزار فوجیوں کی تعیناتی

Image caption دونوں ممالک کے درمیان ہزاروں کلومیٹر طویل سرحد گذشتہ کئی دہائیوں سے تنازعے کا سبب بنی ہوئی ہے

بھارتی حکومت نے چین سے متصل اپنی سرحد پر فوج کی تعداد میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب مزید 50 ہزار فوجی اس سرحد پر تعینات کیے جائیں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نئی تعیناتی پر 65 ہزار کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے۔

’بھارت چار سرحدی لائنوں میں پھنس کر رہ گیا ہے‘

بھارتی میڈیا کا جنگی جنون

یہ فوجی مغربی بنگال میں بھارت اور چین کے درمیان سرحد پر تعینات کیے جائیں گے۔

گذشتہ ایک سال میں کئی بار بھارتی علاقے میں چین کی جانب سے مبینہ دراندازی کی خبریں آتی رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں چین نے بھی بھارت سے ملحقہ سرحد پر اپنی فوجی نفری میں اضافہ کیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ہزاروں کلومیٹر طویل سرحد گذشتہ کئی دہائیوں سے تنازعے کا سبب بنا ہوا ہے اور اس کے حل کے لیے فریقین کے درمیان کئی دفعہ بات چیت ہو چکی ہے تاہم مبصرین کے مطابق اس ضمن میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بھارتی فوج کی 17 ویں کور اس تعیناتی کے ابتدائی دور میں جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں رہے گی اور بنیادی ڈھانچے کے تیار ہوجانے کے بعد اسے مغربی بنگال کے پاناگڑھ علاقے میں منتقل کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ حقیقی کنٹرول لائن پر تعینات ہونے والی یہ پہلی کور ہوگی جو جنگ کی صورت میں چین کے خود مختار علاقے تبت میں کارروائی کرنے کے لیے تیار ہوگي۔

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی قیادت میں 17 جولائی کو ہونے والی کابینہ کی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس نئی کور کے قیام کی تجویز کو منظوری دی گئی تھی۔

مبصرین کے خیال میں یہ بھارت کی جانب سے ایک اہم قدم ہے کیونکہ چین بھی اپنے خود مختار تبت کے علاقے میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے میں مصروف ہے۔

اطلاعات کے مطابق چین نے اس علاقے میں طیاروں کے لیے کم از کم پانچ بیس قائم کیے ہیں جو پوری طرح سے کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اس کے علاوہ چین نے وہاں وسیع ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ 5800 کلومیٹر طویل سڑکیں بھی تعمیر کی ہیں۔

اسی بارے میں