بھارت: ’ماؤ نواز باغیوں کی آدھی تعداد خواتین‘

Image caption ماؤ نوازی باغیوں کی مہم 1960 میں ایک چھوٹے سے چائے کے باغ سے اس وقت شروع ہوئی جب وہاں کام کرنے والے کسانوں نے احتجاج شروع کیا

صحافی کشالے بھترجی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ریاست اڑیسہ میں ماؤ نواز باغی اپنی کارروائیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ خواتین کو بھرتی کر رہے ہیں۔

اڑیسہ میں ماؤ نواز باغیوں کے ایک کمانڈر کی محافظ ایک ربیکا نامی لڑکی ہے۔ ضلع کندھمل میں ربیکا نے چہرے پر مچھروں سے بچاؤ کے لیے باریک جالی پہنی ہوئی ہے اور ہاتھ میں خودکار رائفل اٹھا رکھی ہے۔

ربیکا کی بہن نے 2010 میں باغیوں میں شرکت کی تھی۔ ان کی گرفتاری کے بعد ان کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی تھی۔

ربیکا کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کو سکیورٹی فورسز نے تحویل میں لیا اور بعد میں ہلاک کردیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی مظالم کے باعث انہوں نے باغی تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور ہتھیار اٹھائے:

’ہمیں اتنی سخت زندگی گزارنے کا شوق نہیں ہے۔ میرے پاس باغیوں میں شمولیت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ اب میں واپس نہیں جاسکتی۔‘

ماؤ نواز باغیوں کی مہم 1960 میں چائے کے ایک چھوٹے سے باغ سے اس وقت شروع ہوئی جب وہاں کام کرنے والے کسانوں نے احتجاج شروع کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ باغیوں میں عورتوں کی شمولیت کی ایک وجہ دیہی علاقوں کے حالات ہیں۔ ان میں بڑے کاروباروں کے باعث مقامی لوگوں کو ان کے علاقوں سے نکالا جانا، مفلسی، سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیاں اور حکومتی حمایت یافتہ ملیشیا کی کارروائیاں شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ باغیوں کو خواتین بھرتی کرنے میں کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں ہے۔ چھتیس گڑھ کے ایک سابق فوجی افسر راہل بھگت کا کہنا ہے: ’ماؤ نواز عورتوں کو لڑنے کے لیے اور مردوں پر نظر رکھنے کے لیے شامل کرتے ہیں تاکہ وہ گاؤں والوں کو بے جا تنگ نہ کریں۔ اب باغیوں کی آدھی سے تعداد عورتوں کی ہے۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ عورتوں کو آگے رکھا جاتا ہے تاکہ سکیورٹی فورسز کو گمراہ کیا جاسکے۔

باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں سے بڑے حملے عورتوں ہی نے کیے ہیں۔

پولیس کے مطابق مئی میں چھتیس گڑھ میں کیے جانے والے حملے میں مردوں کے ساتھ عورتوں بھی پیش پیش رہیں۔ اس حملے میں 24 افراد ہلاک ہوئے۔

لیکن عورتیں باغیوں کو تھکاوٹ اور بدسلوکی کے باعث چھوڑ کر بھی جا رہی ہیں۔ بہار ریاست کے سابق کمانڈر رام پتی گنجو کا کہنا ہے: ’ہمارے گروہ میں 16 سے 40 سال کی عورتیں تھیں۔ تقریباً سب ہی عورتوں نے جب اپنے گھروں سے باہر قدم رکھا تو ان کو یا تو کام کرنے والی جگہ پر یا سکیورٹی فورسز کی طرف سے جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا: ’لیکن اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ عورتیں مرد کمانڈروں کی جانب سے زیادتی کی شکایات کر رہی ہیں۔‘

رشمی مہلی سنہ 2011 تک باغیوں کے ساتھ تھیں اور اب وہ رانچی میں چائے کا کھوکھا چلاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’ہم سات بہن بھائی تھے اور چھوٹی سی زمین کی پیداوار سے پر گزارا کرتے تھے اور کئی روز تو صرف ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتا تھا۔

ماؤ باغی ہمارے گاؤں میں لوگوں کو بھرتی کرنے آتے تھے اور خاندان والوں کے لیے باقاعدہ آمدنی کا وعدہ کرتے تھے۔ میں نے ایک باغی سے شادی کی اور ہمارا ای بچہ بھی ہوا۔ اس بچے نے میری زندگی تبدیل کر کے رکھ دی۔ میں بچے کے ساتھ ہر وقت چھپ کر زندگی نہیں گزار سکتی تھی۔ اسی لیے میں نہ سکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔‘

سکیورٹی فورسز کو امید ہے مزید خواتین بھی رشمی کا رستہ اختیار کریں گی۔

اسی بارے میں