چین کے ڈرون سستے مگر کارگر

Image caption ڈرون ٹیکنالوجی دنیا بھر میں پھیلتی جا رہی ہے

چین میں بنائے گئے نئے بغیر پائلٹ اور ریڈار پر نظر نہ آنے والے ’سٹیلتھ ڈرون‘ کا نام مقامی زبان میں تیز تلوار رکھاگیا ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ چین یہ ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لیے کس قدر بے چین ہے۔

اس کی ہیت کافی حد تک امریکہ کے چمگادڑ کی طرح پروں والے آر کیو170 سینٹینل ڈرون کی طرح ہے جو امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیا ہے ۔ یہ سنہ دو ہزار سات سے امریکہ کے استعمال میں ہے۔

چین اس ٹیکنالوجی میں امریکہ سے کہیں پیچھے ہے لیکن وہ یہ صلاحیت تیزی سے حاصل کر رہا ہے۔

چین میں بنائے گئے اس ڈرون کی صلاحیت کے بارے میں بہت کم تفصیلات سامنے آ سکیں ہیں۔

حال ہی میں ہونے والے ایئر شو اور چین کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں سے واضح ہوتا ہے کہ چین میں مختلف قسم کے ڈرون طیارے تیار کر لیے گئے ہیں اور تقریباً ہر اس درجہ کا ڈرون بنا لیا گیا ہے جو امریکہ کے پاس ہیں۔

ان میں چھوٹے محدور پرواز کے ڈرون طیاروں سے لے کر بڑے ڈرون بھی شامل ہیں جو بالکل امریکی ڈرون ریپر اور پریڈیٹر ڈرون کی طرح کے ہیں۔ ان بڑے ڈرون پر امریکی ڈرون کی طرح ’ہاٹ پوائنٹس ‘ بھی ہیں جن پر راکٹ اور گولے نصب کیے جا سکتے ہیں۔

دنیا میں ڈرون کلب کے دو بڑے کھلاڑی امریکہ اور اسرائیل ہیں انھوں نے محتلف نوعیت کے ڈرون طیارے تیار کیے ہیں۔ ان میں خفیہ معلومات حاصل کرنے اور دشمنوں کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرون بھی شامل ہیں۔

اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ چین نے بھی بالکل ان ہی مقاصد کو سامنے رکھ کر ڈرون طیارے بنائے ہیں۔

بغیر پائلٹ والے طیارے بڑی تیزی سے بیجنگ کے لیے اپنی سرحدوں اور خاص طور ساوتھ چائنہ سی اور ایسٹ چائنہ سی پر نظر رکھنے کا اہم اور موثر ترین ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔

کسی بھی متازع علاقے میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ڈرون ایک محفوظ ، آسان اور سستا طریقہ ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ چین نے اپنے جے چھ لڑاکا طیاروں کو ڈرون ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیا ہے اور انھیں متنازعہ جزائر پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

Image caption فضائی مزاحمت کے سامنے ڈرون زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو سکتے

جاپان امریکہ سے حاصل کردہ جدید ڈرون کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

چین نے اپنے کچھ ڈرون پر میزائل نصب کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے۔

پبلک سکیورٹی کے ایک اعلی اہلکار اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ چین برما میں منشیات کے ایک سمگلر کے خلاف ڈرون حملہ کرنے پر غور کر رہا تھا۔

یہ سمگلر مبینہ طور پر ایک ایسے حملے میں بھی ملوث تھا جس میں تیرہ چین ماہی گیر ہلاک ہو گئے تھے۔

گو کہ یہ حملہ نہیں کیا گیا لیکن ایک بات واضح ہے کہ امریکہ کی طرح چین بھی اپنے دشمنوں کو اپنی سرحدوں کے باہر نشانہ بنا سکتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بات ابھر کر سامنے آئی ہے کہ ایسے علاقوں میں ڈرون بہت کارگر ہیں جہاں کوئی فضائی مزاحمت نہ ہو۔

دیگر حالت میں جیسا کہ جارجیا اور روس کے درمیان سنہ دو ہزار آٹھ میں لڑائی میں اسرائیل سے حاصل کردہ جارجیا کے ڈرون طیاروں کو آسانی سے نشانہ بنا لیا گیا۔

آج کل امریکی دفاعی ماہرین بھی اس فکر میں ہیں کہ مستقبل کی فضائی جنگوں میں ڈرون کیا کارگر ثابت ہو سکیں گے یا وہ دشمن کا آسانی سے نشانہ بن جائیں گے۔

یہی وجہ ہے کے امریکہ کے بعد چین بھی اب ریڈار میں نہ آنے والے ڈرون بنا رہا ہے۔

امریکی ڈرون بہت جدید ہیں اور وہ بہت مہنگے بھی ہیں۔ اگر کسی ملک کو یہ خریدنے کی اجازت مل بھی جائے تو خریدنا آسان نہ ہوگا۔ امریکہ کے ریپر ڈرون کی قیمت تین کروڑ ڈالر ہے۔

چین کے ڈرون نسبتاً سستے ہیں اور بڑی حد تک امریکی ڈرون کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ صرف دس لاکھ ڈالر میں آپ کے ہو سکتا ہے۔

چین دفاعی ٹیکنالوجی فروخت کرنے میں زیادہ سخت پالیسی نہیں رکھتا اور ایشیائی اور افریقی ملکوں کو فروخت کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی اور اس کا استعمال صرف دفاعی مقاصد تک محدود نہیں ہے۔