بھارتی صحافی کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے معاملے کی تحقیقات شروع

Image caption ترون تیج پال کے خلاف اپنی ایک ساتھی کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے الزام کے بعد کئی سوالات سامنے آئے ہیں

بھارت میں تہلکہ نامی جریدے کے مدیر ترون تیج پال پر اپنی ایک ساتھی صحافی کے ساتھ جنسی استحصال کے الزامات کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔

ایک جانب اس معاملے میں گوا کی حکومت نے ابتدائی جانچ کا حکم دیا ہے تو دوسری جانب دہلی میں اس پر سیاست گرم ہے۔

اطلاعات کے مطابق بی جے پی رہنما ارون جیٹلی نے حکمراں جماعت کانگریس پر ترون تیج پال کو بچانے کا الزام لگایا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ترون تیج پال نے کہا تھا کہ انھوں نے ’اس منحوس سانحے کے بعد کفارے‘ کے طور پر چھ ماہ کے لیے اپنے عہدے سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا اور مختلف تنظیموں کی جانب سے اس معاملے پر ترون تیج پال کی سرزنش جاری ہے۔

بھارت کے نائب صدر حامد انصاری نے اسی منگل کو بھارت کے اہم ترین سرکاری میڈیا ادارے پرسار بھارتی کے بورڈ ممبر کے طور پر ترون تیج پال کے نام کی منظوری دی تھی لیکن اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ان کا نام واپس لے لیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایڈیٹرز گلڈ نے اپنے ایک بیان میں اسے ’حیران کُن‘ اور ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔ پریس کلب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ واقعہ بھارتی صحافت پر بدنما داغ ہے۔‘

جنسی بدسلوکی کا یہ معاملہ اسی ماہ گوا میں تہلکہ میگزین کے ایک پروگرام کے دوران پیش آيا جس میں دنیا بھر سے معروف شخصیتوں نے شرکت کی تھی۔

اس سے قبل متاثرہ خاتون کے بارے میں اُن کی ایک قریبی ساتھی نے بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے کہا ہے کہ ’وہ پوری طرح ٹوٹ چکی ہے اور جذباتی طور پر صدمے میں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’لڑکی کے یہ کہنے کے باوجود کہ وہ ان کی بیٹی کی ہم عمر ہے ان کے ساتھ وہ حرکت مسلسل ہوئي ۔۔۔ وہ کہتی رہی کہ ’پلیز ایسا نہ کریں‘ ۔۔۔ اس کی ’نہیں‘ کو نہ مانا گیا ۔۔۔ ایسا ایک بار ہوا اور اگلے دن پھر ہوا۔‘

گوا کے وزیر اعلی منوہر پاریکر نے نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ابتدائی تحقیقات کے لیے کسی کی طرف سے کسی طرح کی شکایت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اگر کوئی جرم ریاست میں ہوا ہے تو شکایت ہو یا نہ معاملے کی جانچ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔‘

Image caption ترون تیج پال نے سیاست اور دفاع میں بدعنوانی کا پردہ فاش کیا تھا

اسی بابت گوا کے پولیس ڈی جی کشن کمار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی شروع کر دی ہے اور وہ متاثرہ لڑکی سے رابطہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ہم نے شوما چودھری (تہلکہ کی سربراہ) سے رابطہ کیا ہے کہ وہ ہماری ای میل پر فوری طور پر کارروائی کریں اور ہمیں متاثرہ لڑکی کا وہ خط روانہ کریں جس میں مبینہ طور پر اس نے شوما چودھری کو اس معاملے کے بارے میں بتایا تھا۔‘

انھوں نے کہا: ’جس ہوٹل میں مبینہ طور پر یہ واقعہ ہوا، وہاں ہم نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ہم ویڈیو فوٹیج دیکھ رہے ہیں۔‘

بھارت کی قومی خواتین کمیشن کی رکن نرملا ساونت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے اس معاملے میں از خود کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دریں اثنا گوا میں جاری بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں شریک اطلاعات و نشریات کے وزیر منیش تیواری نے کہا: ’یہ کافی حساس معاملہ ہے۔ اس میں تمام تفصیلات پر غور کرنے کے بعد اگر کسی قسم کے جواب کی ضرورت پڑتی ہے تو ہم ضرور ایسا کریں گے۔‘

حزب اختلاف کی اہم پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی نے تیج پال کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کی ترجمان مینا کشی لیكھي نے کہا ’ہم ترون تیج پال کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

صحافی رکمنی سین کے مطابق: ’پوری دنیا سے سوال پوچھنےوالے، مساوات اور سچائي کی جنگ لڑنےوالے صحافی، جن کے کام کی آپ بہت عزت کرتے ہیں، جب ان میں سے ہی کوئی اپنی خواتین ساتھیوں کے ساتھ بدسلوکی کرے تو یہ بہت افسوسناک اور مایوس کن ہوتا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’میڈیا ادارے میں اہم عہدے پر پہنچنے کے بعد کوئی مرد اگر اپنے اصولوں کو طاق پر رکھ دے تو اس سےخواتین کی بہت حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔‘

دہلی میں ہمارے نامہ نگار مرزا باقی بیگ کے مطابق گذشتہ کچھ مہینوں کے دوران کام کی جگہ پر جنسی استحصال کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں، مثلا بھارتی سرکاری ٹی وی دوردرشن اور آل انڈیا ریڈیو میں کام کرنے والی خواتین کی شکایت، سن ٹی وی کی ایک خاتون صحافی ایس اكیلا کا معاملہ اور اب تہلکہ میگزین کے ایڈیٹر ترون تیج پال کے خلاف جنسی تشدد کی شکایت ان میں سے چند واقعات ہیں جو سامنے آئے ہیں۔

لیکن رکمنی سین اور دیگر خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ صحافت کی دنیا میں اپنی نوکری گنوانے کے خوف سے عام طور پر خواتین اپنے سینیئر کی بدسلوکیوں کی شکایت نہیں کرتیں۔

اسی بارے میں