بھارتی قحبہ خانے میں سسکتی زندگیاں

Image caption گڈّي جب صرف 11 سال کی تھی تو ایک پڑوسی نے اس کے گھر والوں کو اسے ممبئی بھیجنے کے لیے آمادہ کر لیا تھا

برطانوی فوٹو جرنلسٹ ہیزل تھامسن گذشتہ ایک دہائی سے بھارت میں جسم فروشی کے بازار میں لائی جانے والی لڑکیوں کی زندگی پر تحقیق کر رہی ہیں۔ اپنی اس تحقیق کے بارے میں انہوں نے آتش پٹیل سے بات کی ہے۔

ان کے مطابق گڈّي جب صرف 11 سال کی تھی تو ایک پڑوسی نے اس کے گھر والوں کو اسے ممبئی بھیجنے کے لیے آمادہ کر لیا تھا۔ اس کا گھر ممبئی سے سینکڑوں میل دور مغربی بنگال کے ایک افلاس زدہ گاؤں میں تھا۔

اسے اچھی تنخواہ والی گھریلو ملازمت دلانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس کے بجائے اسے ایشیا کے سب سے بڑے جسم فروشی کے بازار میں سے ایک میں سیکس ورکر کے طور پر پہنچا دیا گیا۔

وہاں ایک گاہک نے اس کے ساتھ ریپ کیا اور اس کے بعد تین ماہ اسے ہسپتال میں رہنا پڑا۔

دل دہلا دینے والی یہ داستان اکیلی گڈّي کی نہیں ہے بلکہ ہیزل کے مطابق كماٹھیپورا کی 20 ہزار سے زیادہ سیکس ورکروں میں سے بہت سی خواتین کی کہانی اس سے مماثل ہے۔

كماٹھیپورا کو 150 سال پہلے نو آبادیاتی برطانوی دور حکومت میں برطانوی فوجیوں کی ’عیش گاہ‘ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔

تھامسن کہتی ہیں ’اس کا حوصلہ توڑنے کے لیے اس کا ریپ کیا گیا تھا۔‘

تھامسن کا كماٹھیپورا کا سفر سنہ 2002 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب وہ قحبہ خانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی تصاویر لینے گئی تھیں۔ بعد میں انہوں نے اپنے تجربے پر مبنی ای بک ’ٹیکن‘ لکھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ممبئی کے كماٹھیپورا علاقے میں یوں محسوس ہوتا ہے گویا وقت ٹھہر گیا ہے۔‘

ممبئی کا قدیم ترین اور سب سے بڑا یہ جسم فروشی کا بازار چودہ تنگ و تاریک گلیوں پر مشتمل ہے جو کہ ممبئی کی اقتصادی ترقی کی چکاچوند اور فلک بوس عمارتوں میں کہیں گم ہے۔

انیسویں صدی کے دوران برطانوی فوج نے پورے بھارت میں اپنے فوجیوں کے لیے کئي قحبہ خانے قائم کیے تھے جہاں گاؤں کے غریب گھرانوں سے کمسن لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے لایا جانے لگا۔ انہیں براہ راست فوج سے پیسے ملتے تھے اور فوج ہی ان کی قیمت طے کیا کرتی تھی۔

سنہ 1864 تک ممبئی کے ارد گرد آٹھ ایسی بستیاں تھیں جہاں 500 سے زیادہ سیکس ورکرز رہتی تھیں۔ تقریبا 60 سال بعد ان میں سے صرف دو بستیاں رہ گئيں اور ان میں كماٹھیپورا سب سے بڑی بستی تھی۔

تھامسن کا کہنا ہے کہ ’وہاں آج تک وہی روایت جاری ہے۔‘

سنہ 1890 کی دہائی میں میں پر تشدد گاہکوں سے بچانے کے لیے پولیس نے ان عورتوں کے لیے کھڑکیاں بنوائیں اور دروازوں پر سلاخیں لگوائی تھی۔

کئی خواتین آج بھی برطانوی افسروں کے ذریعے بنائے گئے ان ’پنجروں‘ میں رہتی اور کام کرتی ہیں۔

تھامسن کا دعوی ہے کہ ’گذشتہ 120 سالوں سے كماٹھیپورا میں کچھ نہیں بدلا ہے۔ کچھ بھی نہیں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’آج کل یہاں عورتیں سیکس کے لیے 500 روپے لیتی ہیں اور 12 سے 16 سال کے درمیان کی لڑکیاں 2000 روپے تک کما لیتی ہیں۔

’کنواری لڑکیوں کے لیے اونچی بولی لگتی ہے۔‘

35 سالہ فوٹو گرافر کو كماٹھيپورا کی اس پراسرار دنیا میں جانے کا موقع تب ملا ، جب وہ ’بامبے ٹین چیلنج‘ نام کی چیریٹی ادارے میں پہنچیں۔

اس ادارے کو كماٹھیپورا کے سابق سیکس ورکرز اور دلال چلاتے ہیں اور وہ گذشتہ 20 برسوں سے كماٹھیپورا سے سیکس ورکروں کو نکالنے اور آبادکاری کی خدمات میں لگے ہوئے ہیں۔

ہیزل اس علاقے میں ایک امدادی کارکن کے بھیس میں گئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے پہل چھپ کر تصویر لیتی تھیں۔

انہوں نے بتایا ’میں وہاں جاتی اور اپنا کام جلدی سے ختم کرکے نکل جاتی۔ میں ایسا ان کی توجہ سے بچنے کے لیے کرتی تھی۔‘

وہ جب بھی وہاں جاتیں انھیں ایک خطرہ محسوس ہوتا اور جس کا خوف تھا وہ واقعہ سنہ 2010 میں ایک سیکس ورکر سے بات کرتے ہوئے پیش آیا جب غنڈوں کے ایک گروہ نے انہیں مارا پیٹا۔

انہوں نے مزید بتایا ، ’كماٹھیپورا میں سچ جاننے کے اپنے سفر کے دوران میں نے کئی بار پیچھے لوٹ جانے کی کوشش کی۔‘

مس تھامسن کی ای بک ’ٹیکن‘ میں متن، تصاویر اور ویڈیو کے ذریعہ كماٹھیپورا کی زندگی کی ایک تصویر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس میں ان عورتوں کی داستان بھی درج ہے جو اس ’جدید غلامی‘ سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

مثال کے طور کرناٹک کے جنوبی علاقے سے آنے والی 16 سالہ لتا۔

لتا کو اس کے دوست نے ہی نشہ آور دوا دے کا اس دلدل میں پھینک دیا تھا۔برسوں بعد ’ممبئی ٹین چیلنج‘ تنظیم نے انہیں وہاں سے نکالا اور ان کے اہل خانہ سے انھیں ملایا۔ اب وہ تنظیم کی طرف سے چلائے جانے والے ایک مرکز میں رہتی ہیں۔

تھامسن کہتی ہیں ’11 سال تک میرا وہاں آنا جانا رہا۔ اس دوران مجھے ایسی ایک عورت نہیں ملی جس نے اپنی مرضی سے یہ کام کیا ہو۔ یہ عورتیں یا تو یہیں پیدا ہونے والی تھیں یا اسمگلنگ کے ذریعہ لائی گئی تھیں۔‘

اسی بارے میں