’پاکستانی سرزمین پر ایک گولی چلانا بھی گناہ سمجھتی ہوں‘

Image caption آسیہ اندرابی دخترانِ ملت کی سربراہ ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی معروف علیحدگی پسند خاتون رہنما آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے جہاد میں کشمیریوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ان کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے۔

خواتین کی تنظیم دخترانِ ملّت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے بی بی سی کو بتایا: ’کئی ماہ پہلے مجھے بتایا گیا کہ سعودی گزٹ اخبار کے ایک صحافی میرا انٹرویو لینا چاہتے ہیں۔ لیکن جب ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ وہ القاعدہ سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکستان میں سرگرم تحریک طالبان کی سرپرستی بھی کرتے ہیں۔‘

آسیہ اندرابی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس پیشکش کے جواب میں کہا کہ کشمیری پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔

واقعے کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے کہا یہ منصوبہ القاعدہ کا ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ لوگ کسی اور ایجنسی کے ہو۔ میں نے کہا یہاں سے چلے جاؤ، کیونکہ میں پاکستانی سرزمین پر ایک گولی چلانا بھی گناہ سمجھتی ہوں۔ میں تو اکثر کہتی ہوں پاکستان میں جہاد حرام ہے، حرام ہے، حرام ہے۔‘

آسیہ اندرابی نے بتایا کہ ان سے رابطہ کرنے والوں نے پیغمبرِ اسلام کی ایک حدیث کا حوالہ دیا جس میں ’غزوۂ ہند‘ کی پیشں گوئی کی گئی ہے۔

’میں نے ان سے کہا جس غزوے کی آپ بات کرتے ہو وہ خراساں سے شروع ہوگا، پاکستان سے نہیں۔ کوئی کشمیری اسی مکروہ سازش کا حصہ نہیں بنے گا۔‘

آسیہ اندرابی کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان میں ایسے معصوم نوجوان بھی ہیں جو نفاذ شریعت میں مخلص ہیں اور جہاد کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’لیکن تحریک طالبان کے حوالے سے بھارت اور اسرائیل نے کافی کچھ کیا ہے اور یہ سب پاکستان کے استحکام کو بگاڑنے کی سازش ہے۔‘

کشمیر پولیس کے سربراہ عبدالغنی میر نے رابطہ کرنے پر بتایا: ’ہمیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے، لیکن اگر آسیہ اندرابی صاحبہ کے پاس ایسی معلومات ہیں تو یہ ان کا فرض ہے کہ وہ پولیس سے تعاون کریں۔‘

اسی بارے میں