آروشی کیس: ’ماں باپ ہی اکلوتی بیٹی اور ملازم کے قاتل‘

Image caption قتل کا یہ پراسرار واقعہ مئی 2008 میں پیش آیا تھا

بھارت کے دارالحکومت دہلی کے نواحی شہر نوئیڈا کی ایک عدالت نے ساڑھے پانچ سال پرانے مقدمۂ قتل میں ڈاکٹر راجیش اور ڈاکٹر نوپور تلوارکو اپنی 14 سالہ بیٹی آروشی اور گھریلو خادم ہیمراج کے قتل کا مجرم قرار دیا ہے ۔

قتل کا یہ واقعہ مئی 2008 میں پیش آیا تھا اور مقامی پولییس کی تفتیش کے بعد اسے سی بی آئی کے حوالے کیا گیا تھا۔

عدالت نے آروشی کے والدین کو دوہرے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان کی سزاؤں کے تعین کے لیے منگل 26 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

تقریبا ساڑھے پانچ برس بعد قتل کے اس دہرے واقعے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ذیلی عدالت کے جج نے کہا کہ واقعاتی شہادتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ واردات کی شب اس گھر میں کوئی باہر سے داخل نہیں ہوا تھا۔ عدالت نے سی بی آئی کی یہ دلیل بھی تسلیم کر لی کہ قتل کی واردات کے بعد ڈاکٹر ماں باپ نے اپنے جرم کو چھپانے کے لیے شواہد بھی مٹانے کی کوشش کی۔

عدالت نے سی بی آئی کی یہ دلیل تسلیم کر لی کہ آروشی کے قتل کا معاملہ ’غیرت کے نام‘ پر قتل کا معاملہ ہے۔

راجیش اور نوپور تلوار پر قتل کے ساتھ ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام تھا اور ابھی تک وہ ضمانت پر تھے۔ تاہم اب انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

Image caption ڈاکٹر راجیش اور نوپور تلوار کی سزاؤں کے لیے 26 نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے

فیصلے کے فورا بعد راجیش اور نوپور تلوار نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم فیصلے سے کافی مایوس، دکھی اور مجروح محسوس کر رہے ہیں۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم ابھی ہارے نہیں ہیں اور انصاف کے لیے جنگ جاری رہے گی۔‘

تلوار کے وکیل ستيكیت سنگھ نے بھی فیصلے کو مایوس کن قرار دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سزاؤں کا تعین ہونے کے بعد وہ ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

سی بی آئی کی تفتیش کے مطابق آروشی کو اس کے والدین نے گھریلو خادم 45 سالہ ہیمراج کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھا تھا اور غصے میں انہوں نے پہلے اپنی بیٹی اور بعد میں ہیمراج کو قتل کر دیا۔

دہلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ قتل کا یہ دہرا واقعہ ابتدا ہی سے پر اسرار بنا رہا اور اس کی تفتیش میں کئی موڑ آئے۔ یہ واقعہ پورے ملک میں گہری دلچسپی اور بحث کا موضوع رہا۔

سی بی آئی نے اس سے پہلے اس قتل کے لیے ڈاکٹر تلوار اور ان کے ایک دوست کے دو ملازموں کو قصور وار پایا۔

بعد میں سی بی آئی نے خود اپنی تفتیش رد کر دی اور ایک دوسری ٹیم تشکیل دی۔ اس ٹیم نے واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر آروشی کے والد ڈاکٹر راجیش تلوار کو قصور وار قرار دیا لیکن ناکافی ثبوت کے سبب اس کیس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم ضلع مجسٹریٹ کی عدالت نے سی بی آئی کی دلیل نہیں مانی اور آروشی کے والدین پر قتل کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں