نانجیکن آج بھی ماؤ کی تعلیمات پر کاربند ہے

Image caption نانجیکن میں دن کا آغاز انقلابی نغمے گانے کی تقریب سے ہوتا ہے

عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماؤ زے تنگ گو کہ 1976 میں انتقال کر گئے تھے، لیکن چین کے ایک چھوٹے سے گاؤں نانجیکن میں آج بھی ان کی موجودگی محسوس کی جا سکتی ہے جہاں ماؤ کامریڈ ان سے وابستہ یادوں کو ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

نانجیکن ایک ایسا گاؤں ہے جہاں بظاہر وقت تھم سا گیا ہے یا پھر شاید کچھ پیچھے چلا گیا ہے۔

چین کے وسطی علاقوں میں صبح دھندلی دھندلی ہوتی ہے اور سرمئی آسمان پر کہرا سا چھایا رہتا ہے۔ تاہم موسم جیسا بھی ہو نانجیکن میں صبح سوا چھ بجے فضا ماؤ زے تنگ کی مدح میں نغموں سے گونج اٹھتی ہے۔ گاؤں کی ہر گلی کے کھمبوں پر نصب لاؤڈ سپیکروں سے یہ نغمے مسلسل نشر ہوتے رہتے ہیں۔

یہ وہ نغمے ہیں جنہیں آج کے چینی جوانوں نے اپنے بچپن میں سنا یا پھر ان کے والدین اپنے بچپن سے سنتے آئے تھے۔

60 برس قبل یہ گانے چین میں ہر جگہ سنائی دیتے تھے لین آج صرف یہ یہاں چین کے وسطی صوبے ہینان ہی میں باقی ہیں۔

جب 1980 کی دہائی میں ماؤ زے تنگ کے جانشینوں نے سرکاری زمینیں کسانوں کو واپس کیں تو نانجیکن کے عوام نے ماؤسٹ کمیونل اصولوں کے تحت اپنی زمینیں واپس گاؤں کے حوالے کر دی تھیں۔

اس دور میں گاؤں میں ترقی بھی ہوئی۔ گاؤں کے داخلی راستے پر چینی محراب تعمیر کی گئی اور پھر کچے مکانات کی جگہ پکی رہائشی عمارتوں نے لے لی۔

Image caption نانجیکن کی نوڈل فیکٹری میں کام کرنے والی لی جوان اس گاؤں کے خاموش ماحول پر فدا ہیں

آج اس گاؤں کے مرکزی چوک پر نہ صرف ماؤ زے تنگ کا ایک بڑا مجسمہ نصب ہے جس کے ساتھ کمیونزم کی بڑی شخصیات کارل مارکس، لینن اور سٹالن کے پوسٹر اور سرخ بینر دکھائی دیتے ہیں۔ گاؤں کا اپنا ریڈیو سٹیشن ہے جو یہاں کے رہائشیوں کو ہر صبح چیئرمین ماؤ کے بارے میں نغمے اور ان کی تقاریر سنواتا ہے۔

لیکن اب پرانے کھیتوں کی جگہ پر نوڈلز، بیئر اور ادویات بنانے والے نئے کارخانے قائم ہیں۔

یہاں کی نوڈل فیکٹری 15 برس قبل جاپانی سرمایہ کاری کی مدد سے قائم کی گئی تھی۔ اس فیکٹری میں کام کرنے والی نوجوان خاتون لی جوان نے بتایا کہ وہ ایک مقامی لڑکے سے شادی کے بعد گاؤں کا حصہ بنیں۔

ان کے مطابق وہ اس گاؤں کی سادہ و خاموش زندگی کی دلدادہ ہیں جو چین کے ان شہروں سے کہیں مختلف ہے جہاں ہجوم اور شور زندگی کا دوسرا نام ہے۔

نانجیکن میں گاڑیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سڑکوں پر چند برقی سکوٹر اور کہیں کہیں تین پہیوں والے چھوٹے ٹرک چلتے دکھائی دیتے ہیں۔

Image caption ماؤ زے تنگ کی تصویر والا برقی کیلینڈر ان کی یاد اور جدید چین کا امتزاج ہے

اگرچہ یہاں ماؤ نواز بینروں کی بھرمار ہے لیکن یہ جگہ سادہ، صاف اور تجارتی اشتہاروں سے پاک ہے۔

اس گاؤں میں بنیادی تنخواہ خاصی کم ہے جو تقریباً 32 امریکی ڈالر ماہانہ کے مساوی ہے، لیکن رہائشیوں کو رہائش، بنیادی اشیائے خوراک اور تعلیم مفت فراہم کی جاتی ہے۔

اگرچہ اس گاؤں کے اردگرد جدید چین تیزی سے پھل پھول رہا ہے لیکن جب آپ اس گاؤں کے کسی رہائشی کے گھر میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں آپ کو کفایتی ثقافتی انقلاب کی جدید شکل دکھائی دیتی ہے۔

ایسے ہی ایک مکان کے بزرگ مکین ہمیں اپنے گھر لے گئے جس کی چھتیں بلند اور کمرے کشادہ تھے۔ مرکزی کمرے کی دیوار پر جھیل اور پگوڈا کی بہت بڑی تصاویر آویزاں تھیں۔

ایک اور دیوار پر نصب جدید فلیٹ سکرین ٹی وی پر سینٹرل چائنا ٹی وی سٹیشن نہ ختم ہونے والی تاریخی کہانیوں پر مشتمل پروگرام دکھا رہا تھا۔

اسی ٹی وی کے اوپر دیوار پر چیئرمین ماؤ کی زمانۂ جوانی کی تصویر موجود تھی جو ایک برقی کیلینڈر کا حصہ تھی جس کا ایک بٹن دبانے پر اچانک ماؤ کے چہرے پر قوس و قزح کے رنگ دکھائی دینے لگتے تھے۔

یقیناً یہ کیلینڈر بھی اسی گاؤں کی اپنی پیداوار تھا۔

اسی بارے میں