’ہمارے خواب اب بکھرنے لگے ہیں‘

Image caption سترہ سالہ شیخ منیرہ پانچوں بھائیوں بہنوں میں سب سے بڑی ہے

پانچ برس قبل آج ہی کے روز موسم خوشگوار تھا۔ ممبئی شہر کے وسط میں واقع مقبول ریستوراں لیوپولڈ کیفے میں ڈنر کے لیے نوجوانوں کی بھیڑ جمع تھی۔

کیفے کے ایک ویٹر شیخ پیر پاشا گاہکوں سے ان کا آرڈر نوٹ کر رہے تھے کہ اچانک دو نوجوان اندھا دھند گولیاں چلاتے ہوئے کیفے میں داخل ہوئے۔ متعدد لوگ اس حملے میں مارے گئے۔ ان میں شیخ پاشا بھی تھے۔

پانچ برس بعد شیخ پاشا کی فیملی سخت مشکلات کا شکار ہے۔

ان کی آبدیدہ بیوہ حسین بی کا کہنا ہے کہ لیوپولڈ کیفے کی طرف سے اب بھی انہیں ہر مہینے پانچ ہزار روپے مل جاتے ہیں۔ ایک دو ہزار روپے سلائی اور دوسرے کاموں سے حاصل ہوتے ہیں لیکن زندگی بہت دشواریوں میں گزر رہی ہے۔

انھوں نے کہا، ’میرے شوہر تھے تو ہم سبھی بہت اچھی حالت میں تھے۔ میرے پانچوں بچے پڑھ رہے تھے۔ سبھی خوش تھے۔ لیکن اب سب کچھ بگڑنے لگا ہے۔‘

حسین بی کہتی ہیں: ’پانچوں بچوں کی پڑھائی بہت مشکل ہے۔ میں نے بڑی لڑکی کی پڑھائی چھڑوا دی ہے۔ اب وہ کام کرتی ہے۔‘

17 برس کی شیخ منیرہ پانچ بھائیوں بہنوں میں سب سے بڑی ہیں۔ وہ صحافی یا فیشن ڈیزائنر بننے کا خواب دیکھ رہی تھیں لیکن اب خرچ کے لیے پیسے پورے نہیں ہوتے اس لیے پڑھائی چھوڑ دی۔

منیرہ کہتی ہیں: ’اب ہمارے خواب بکھرنے لگے ہيں۔‘

منیرہ ایک بہادر لڑکی ہے۔ اس نے بتایا کہ پانچ برس قبل جب اس کے والد حملے میں مارے گئے تب وہ کمزور نہیں محسوس کرنا چاہتی تھیں: ’ہم یہ مان کر چل رہے تھے کہ وہ ہمارے پاس ہیں کیونکہ وہ ہمارے پاس ہوں گے تو ہم سب کچھ کر سکیں گے۔‘

منیرہ کہتی ہیں کہ ’ہم سب پڑھائی کرنا چاہتے تھے۔ پاپا جب تھے تو ساری تکلیفیں وہ خود اٹھا لیتے تھے۔ آج جب ہم یہ تکلیفیں اٹھا رہے ہیں تو ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ وہ ہمارے لیے کتنی تکلیفیں اٹھاتے تھے۔‘

منیرہ اپنے ایک کمرے کے چھوٹے سے مکان میں اپنی ماں اور بھائی بہنوں کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے، ’میں چاہتی ہوں کہ میرے بھائی بہن تعلیم حاصل کریں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ میرے پاپا کو یہ لگے کہ وہ نہیں ہیں تو ہم بہت پیچھے رہ گئے۔‘

Image caption منیرہ اور اور ان کی ماں دل سےاحسان مند ہیں لیکن انھیں یہ خدشہ ہے کہ کہیں یہ مدد بھی بند نہ ہو جائے

منیرہ نے بڑی معصومیت سے پوچھا: ’کیا ہمارے خواب پورے ہوں گے۔‘

منیرہ نے بتایا کہ شیخ پاشا کی ہلاکت کے بعد ان کے خاندان کو پانچ لاکھ روپے بطور زرِ تلافی ملا تھا مگر پانچ برس میں یہ پیسہ ختم ہو چکا ہے۔ اب ریستوراں کے مالک ہر ماہ انہیں پانچ ہزار روپے دیتے ہیں۔ منیرہ اور اور ان کی ماں دل سےاحسان مند ہیں لیکن انھیں یہ خدشہ ہے کہ کہیں یہ مدد بھی بند نہ ہو جائے۔

منیرہ نے اس مختصر ملاقات میں نہ حملہ آوروں کا ذکر کیا اور نہ ہی انہیں برا بھلا کہا جنہوں نے اس کے خواب چھین لیے۔

وہ پڑھنا چاہتی ہے۔ اس کے سبھی بھائی بہن پڑھنا چاہتے ہیں۔ نو عمر منیرہ کو بس یہی فکر ہے کہ وہ ان ننھے خوابوں کو ٹوٹنے سے کیسے بچائے۔

ممبئی حملے نے پانچ برس قبل آج ہی کے دن سینکڑوں خواب منتشر کیے تھے۔ پانچ برس بعد بھی 26 نومبر کی وہ خوفناک رات ختم نہیں ہوئی ہے اور بہت سے معصوم خواب اب بھی ٹوٹ رہے ہیں۔

اسی بارے میں