پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر ممبئی حملے کے سائے

Image caption ستمبر سنہ 2013 میں امریکہ میں اقوامِ محدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نواز شریف اور من موہن سنگھ کے درمیان ملاقات ہوئی

گذشتہ تقریباً دو دہائیوں میں کارگل کی لڑائی کے علاوہ دو ایسے واقعات پیش آئے جنھوں نے ہند و پاک تعلقات کی سمت یا نوعیت طے کی ہے، پہلے دسمبر 2001 میں ہندوستان کی پارلیمان اور پھر سات سال بعد اس کے تجارتی مرکز ممبئی پر حملے۔

دونوں مرتبہ ہندوستان میں انتقامی کارروائی کا بگل بجایا گیا لیکن پھر سب یہ یہ بھی دیکھا کہ پارلیمان پر حملے کے صرف دو سال بعد ہندوستان اور پاکستان جنگ لڑنے کے بجائے ’فرینڈ شپ سیریز‘ میں ایک دوسرے کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے، اور پشاور میں ہندوستانی پرچم کچھ اس انداز میں لہرا رہا تھا جیسے شاید کبھی ہندوتوا کی علم بردار نظریاتی تنظیم آر ایس اسی کے صدر دفتر میں بھی نہیں لہرایا ہوگا۔

لیکن ممبئی پر حملہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کی نفسیات پر کچھ اس طرح حاوی ہو گیا ہے کہ اس کے سائے سے باہمی تعلقات کو اب تک آزاد نہیں کرایا جا سکا ہے۔

ایسا کیوں ہوا؟

مبصرین کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں۔ 2004 میں جب بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان گئی، اس وقت ملک میں قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تھی جو کارگل کی لڑائی، مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے لیے ہندوستانی طیارے کے اغوا اور پارلیمان پر حملے کے باوجود یہ مانتی تھی کہ محدود پیمانے پر ہی سہی، لیکن تعلقات کی بتدریج استواری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

اسی لیے دہلی لاہور بس سروس شروع ہوئی، 2003 میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، اور اس دوران جنرل پرویز مشرف کو ناکام ثابت کرنے والے آگرہ سربراہی اجلاس کے لیے مدعو کیا گیا۔

تجزیہ نگار سجمھتے ہیں کہ اٹل بہاری واجپئی چاہتے تو باہمی مذاکرات کی کوششوں کو ٹھنڈے بستے میں رکھ سکتے تھے لیکن ایسا کرنے کے بجائے وہ بس میں سوار ہو کر لاہور گئے، کارگل کے باوجود جنرل مشرف کو مدعو کیا، پارلیمان پر حملے کے باوجود جنگ بندی معاہدہ ہوا اور جامع مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

لیکن اٹل بہاری واجپئی کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کرنا، یا کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا، موجودہ حکومت کے مقابلے میں نسبتاً آسان تھا کیونکہ ایک تاثر یہ ہے کہ پاکستان سے تعلقات کے خد و خال کا تعین اکثر انڈیا کی وہ سخت گیر لابی ہی کرتی ہے جس پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا کافی اثر و رسوخ ہے۔

ممبئی پر حملہ کیوں مختلف تھا؟

انڈیا میں یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ وزیرِ اعظم من موہن سنگھ پاکستان سے بہتر تعلقات کو اپنے سیاسی ورثے کا ایک اہم پہلو سمجھتے ہیں لیکن 2008 کے بعد کئی کوششوں کے باوجود وہ تعلقات کو واپس پٹری پر لانے میں ناکام رہے۔

Image caption سنہ 2011 میں کرکٹ کے عالمی کپ کے موقع پر پاکستان کے اس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھارت کادورہ کیا

نومبر 2008 میں ممبئی پر حملے کے وقت کانگریس کی حکومت اپنے پہلے دورِ اقتدار کے آخری مراحل میں داخل ہوچکی تھی، قوم پرست بی جے پی اپوزیشن میں تھی، پارلیمانی انتخابات صرف چھ مہینے دور تھے، حملہ ہندوستان کے کاروباری مرکز پر کیا گیا تھا، اسے تین دن تک دنیا بھر میں براہ راست ٹیلی وژن پر دکھایا گیا اور شاید اس سب سے اہم یہ کہ اجمل قصاب کو گرفتار کر لیا گیا۔

اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید اس بدلے ہوئے سیاسی منظرنامے کے مرکزی کردار بن گئے کیونکہ ممبئی پر حملوں کے لیے انڈیا انھیں ہی ذمہ دار سمجھتا ہے۔

اسی وجہ سے ممبئی پر حملوں نے ایک ایسی علامتی اہمیت اختیار کرلی جس کی کسوٹی پر اب باہمی تعلقات میں بہتری کی ہر کوشش کو پرکھا جاتا ہے۔

ممبئی پر حملوں کے بعد ملک بھر میں عوامی مظاہرے ہوئے اور حکومت کے لیے کوئی ایسا قدم اٹھانا مشکل ہوتا چلا گیا جس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوتا یا حزبِ اختلاف کو یہ الزام لگانے کا موقع ملتا کہ وہ قومی سلامتی اور قومی مفاد کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہے یا پاکستان سے کمزور پوزیشن سے بات کر رہی ہے۔

لیکن پھر بھی پیش رفت ہوئی۔

تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ اگرچہ بظاہر انڈیا کا دعویٰ ہے کہ ہند و پاک تعلقات میں بہتری حافظ سعید کے خلاف کارروائی سے منسوب ہے لیکن پہلے جولائی 2009 میں، ممبئی پر حملے کے صرف سات مہینے بعد، شرم الشیخ کے اعلامیے سے، اور پھر فروردی 2011 میں تھمپو میں باہمی مذاکرات کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا کہ حکومت نے دو الگ الگ سطحوں پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یعنی ایک سطح پر حافظ سعید اور ممبئی پر حملوں کے ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا جائے لیکن تعلقات کی بہتری کو اس مطالبے کا یرغمال نہ بنایا جائے۔

اسی لیے تھمپو کی ملاقات کے بعد مذاکرات کا عمل باقاعدہ طور پر دوبارہ شروع ہوا لیکن جنوری سے لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی کی نذر ہوگیا۔

اگرچہ پاکستان میں نواز شریف کے برسرِاقتدار آنے سے نئی امیدیں جاگی تھیں لیکن اب لگتا ہے کہ تعلقات پھر اسی نہج پر پہنچ گئے ہیں جہاں نومبر 2008 میں تھے۔

اب انڈیا میں پھر پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ممبئی پر حملے کی یادیں تو کچھ دھندلی ہوئی ہیں لیکن باہمی رشتوں پر اس کے اثرات نہیں۔

اسی بارے میں