جنرل راحیل میں بھارت کی دلچسپی

جنرل راحیل شریف کو پاکستان کی بری فوج کا نیا سربراہ مقرر کیے جانے کے بارے میں پڑوسی ملک بھارت میں خاصی دلچسپی رہی۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں نے جنرل راحیل کی تقرری کی خبر کو نمایاں طور پر شائع اور نشر کیا ہے۔

اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی خبروں میں جنرل راحیل کا پس منظر، ان کا کرئیر، کس صوبے سے ان کا تعلق ہے، وہ کس طرح کے نظریات کے حامل ہیں اور فوج میں انہوں نے اب تک کس طرح کا کردار ادا کیا ہے، ان سبھی پہلوؤں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔

بھارت میں سرکاری طور پر جنرل راحیل کی تقرری پر تو کوئی ردِ عمل نہیں آيا ہے لیکن سرکاری حلقوں میں نئے سربراہ کی تقرری کے بارے میں خاصی دلچسپی ہے۔

پاکستان کی بری فوج کے نئے سربراہ ایک ایسے وقت میں اپنا عہدہ سنبھال رہے ہیں جب افغانستان سے امریکہ کی فوجیں انخلا کی تیاریاں کر رہی ہیں اور خود پاکستان کو داخلی طور پر شدت پسندی کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ بھارت میں جنرل راحیل کو ان کے پیشرو جنرل کیانی کی طرح اعتدال پسند نظریات کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔

بھارت کے سرکاری حلقوں میں یہ تصور عام ہے کہ پاکستان میں پالیسی سازی کے عمل میں بالخصوص بھارت سے پاکستان کے رشتوں کے سلسلے میں فوج اہم کردار ادا کرتی رہی ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں بھارت کی حکومت کو نئے سربراہ کے خیالات جاننے میں خاصی دلچسپی رہے گی۔

بھارتی حکومت یہ جاننا چاہے گی کہ دہشت گردی اور بالخصوص بھارت سے پاکستان کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں جنرل راحیل شریف کے تصورات کیا ہیں۔

اسی بارے میں