’عام آدمی‘ کانگریس اور بی جی پی کے لیے نیا خطرہ؟

Image caption ’عام آدمی‘ نامی جماعت کی قیادت اروند کیجری وال کر رہے ہیں جو سابق سرکاری ملازم ہیں

بھارت میں انسدادِ بدعنوانی کے کارکنوں پر مبنی ایک نئی سیاسی جماعت پہلے سے موجود بڑی پارٹیوں بطارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجے موجمدار کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ اس نئی جماعت نے لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

’عام آدمی‘ نامی جماعت کی قیادت اروند کیجریوال کر رہے ہیں جو سابق سرکاری ملازم ہیں۔

دہلی کے مقامی انتخابات میں حصہ لینے والی یہ جماعت انسداد بدعنوانی کی اس مہم کے بعد وجود میں آئی جو دو برس پہلے بھارت میں شروع ہوئی۔

’میں اروند کیجریوال ہوں ۔۔۔ جھاڑو کو ووٹ دیں۔‘ یہ سادہ سا پیغام ہر روز دہلی کے ریڈیو سٹیشن سے نشر کیا جاتا ہے۔

’عام آدمی پارٹی‘ آئندہ ماہ ہونے والے دہلی کے انتخابات ایک اہم جماعت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

انتخابات سے قبل ہونے والے جائزوں کے مطابق یہ جماعت حکمراں کانگریس پارٹی اور حزب مخالف کی بڑی جماعت بی جے پی کے اندازوں کو غلط ثابت کر سکتی ہے۔ ان جماعتوں کے لیے آئندہ برس کے عام انتخابات میں جیت کے لیے دہلی کے انتخابات جیتنا بہت اہم ہے۔

اروند کیجریوال کہتے ہیں ’ہم کانگریس یا بی جے پی کے ساتھ مقابلہ نہیں کر رہے۔ یہ عام آدمی ہے جو ان کے مقابل آیا ہے۔ ان کا دل ان دونوں جماعتوں سے بھر چکا ہے اور اب آخر کار انہیں ایک دیانت دار جماعت کو منتخب کرنے کا موقع ملا ہے۔‘

اس جماعت کی انتخابی مہم انتہائی کم بجٹ پر چل رہی ہے۔

دہلی کے قرب و جوار کے پسماندہ علاقوں میں ایک کھلی جیپ پر سوار کیجریوال کے ساتھ ٹُک ٹُک اور سکُوٹروں کا قافلہ چلا جا رہا ہے۔

پارٹی کے کارکنوں نے اپنے رہنما کی تقلید کرتے ہوئے سفید ٹوپیاں پہن رکھی ہیں جس پر تحریر ہے ’میں ایک عام آدمی ہوں‘۔ کئی افراد پارٹی کا انتخابی نشان جھاڑو اٹھائے ہوئے ہیں۔

ایک شخص کا کہنا تھا ’ہم نے بہت سے سیاستدانوں کو دیکھ لیا جنہوں نے ہم سے وعدے تو بہت کیے لیکن عمل بہت کم کیا۔ اب میں انہیں ایک موقع دینا چاہتا ہوں۔‘

عام آدمی پارٹی کا صدر دفتر دارالحکومت کے وسط میں ایک پرانی سے عمارت میں واقع ہے۔ یہاں رضا کار چندہ جمع کرنے، جماعت کی مہم کا لائحہ عمل تیار کرنے اور محدود وسائل کے استعمال کا طریقۂ کار طے کرنے میں لگے ہیں۔

یہ لوگ باقاعدہ اور پیشہ ور سیاستدان نہیں ہیں۔

یہ لوگ متوسط طبقے سے تعلق رکھنےوالے وکلا، طلبا، صحافی اور گھریلوں خواتین ہیں جو ملک کے سیاستدانوں سے مایوس ہیں۔ انہیں سیاست میں آنے کے لیے دو سال قبل ملک میں انسدادِ بدعنوانی کے لیے چلنے والے مہم سے تحریک ملی۔

بدعنوانی کے خلاف مظاہروں کی قیادت کیجریوال اور ان کے رہنما ’انا ہزارے‘ نے کی تھی۔ نہ صرف ملک بھر سے بلکہ بیرونِ ملک سے بھی ان کے حامی مظاہروں میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

اس مہم میں شرکت کے لیے چھٹی لے کر آنے والے ہانک کانگ کے ایک بینکار امت اگروال کا کہنا ہے ’یہ لوگ جو کر رہے ہیں وہ سچ میں متاثر کن ہے۔‘

امت اگروال نے ہانگ کانگ میں مقیم دوسرے بھارتی باشندوں کے ساتھ مل کر اس مہم کے لیے دو لاکھ ڈالر چندہ کیے۔

اس جماعت نے شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تمام افراد کے نام ظاہر کیے ہیں جنہوں نے انہیں چندہ دیا۔ اگروال کہتے ہیں ’وہاں بہت سے بھارتی ہیں جو رقم عطیہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ حکومت کی جانب سے ہراساں کیے جانے سے خوفزدہ ہیں۔‘

دیگر کا خیال ہے کہ یہ بھارت میں ایک بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلی کی ابتدا ہے۔

سنگا پور میں مینیجمنٹ کنسلٹنٹ راجن مکھنجا کہتے ہیں کہ یہ بھارتی جمہوریت کی ابتدائی فیس بک یا گوگل ہے۔ ’میں اسے کسی چیز کے عوض چھوڑ نہیں سکتا۔‘

لیکن جماعت کے اندر تنازعات کی بھی کمی نہیں۔ انا ہزارے نے بھی خود کو سیاست سے دور ہی رکھا تھا کیونکہ وہ بظاہر جماعتی سیاست میں حصہ لینے کے فیصلے سے ناخوش تھے۔

اس کے علاوہ جماعت کی اہلیت پر بھی سوال اٹھتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے تصورات کو ٹھوس پالیسیوں کی شکل دے پائے گی۔

ایک سیاسی تجزیہ نگار نیرجہ چوہدری کا کہنا ہے ان کے لیے کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ایک بڑا امتحان ہو گا۔ ’وہ سیاسی طور پر ناتجربہ کار ہیں۔‘

جوں جوں ووٹنگ کا دن قریب آ رہا ہے سب کی نگاہیں نئے سیاسی حریف کی طرف ہیں۔

اگر ’عام آدمی‘ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑی تعداد میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ایک قابلِ تقلید مثال بن جائے گی۔

اسی بارے میں