’اس مرتبہ مظلوم ہی نادم اور شرمسار نہیں‘

Image caption جسٹس گنگولی کا معاملہ خود سپریم کورٹ کے لیے بھی ایک ٹیسٹ کیس ہوگا

تہلکہ کے مدیر اعلیٰ ترون تیج پال کے بعد اب سپریم کورٹ کے سابق جج اور مغربی بنگال کے اقلیتی کمیشن کے سربراہ جسٹس اے کے گنگولی کا نام خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں سرخیوں میں ہے۔

تیج پال پر اپنے جریدے کی ایک نوجوان صحافی پر ریپ کی کوشش کا الزام ہے جبکہ جسٹس کنگولی پر قانون کی ایک طالبہ نے ان کے ساتھ انٹرن شپ یعنی تربیتی کورس کے دوران جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

کسی جج اور وہ بھی سپریم کورٹ کے جج کے خلاف اس نوعیت کا الزام پہلی بار سامنے آیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس کی تفتیش کے لیے تین ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی جسٹس گنگولی اور طالبہ کا الزام ریکارڈ کر چکی ہے اور اس نے اپنی رپورٹ بھی چیف جسٹس کو بھیج دی ہے ۔

تیج پال کیس پر ملک کے چالیس سے زیادہ نیوز چینلز گذشتہ تین دنوں سے براہ راست تبصرے کر رہے ہیں اس لیے سپریم کورٹ کے سابق جج کا کیس بھی ایک ٹیسٹ کیس ہو گا۔

سپریم کورٹ کیا قدم اٹھاتی ہے اور وہ کس نتیجے پر پہنچتی ہے یہ تمام پہلو بہت گہرائی کے ساتھ تجزیے کے دائرے میں ہوں گے۔

تیج پال پر جنسی ہراس کا الزام لگایا گیا ہے۔گذشتہ برس دسمبر میں دہلی کے ریپ اور قتل کے واقعے کے بعد جو نیا قانون آیا ہے اس کے تحت نہ صرف ریپ کی تشریح بہت وسیع کر دی گئی ہے بلکہ اس کی سزا بھی اب بہت سخت ہے۔ اگران کا جرم ثابت ہوتا ہے تو انھیں دس برس سے لے کر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

بھارتی معاشرے میں کہنے کو تو عورت کو بڑی عزت کا مقام حاصل ہے لیکن آئینی طور پر برابری کے باوجود عورت کو کبھی بھی برابری کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ اگر ملک میں جرائم کا ریکارڈ دیکھیں تو سب سے زیادہ جرائم عورتوں پر تشدد سے متعلق نظر آتے ہیں۔ ذہنی طور پر بھارتی معاشرہ اب بھی جاگیردارانہ اور ماضی کی ذہنیت سے پوری طرح آزاد نہیں ہو سکا ہے۔

سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ با اختیار، با اثر اور طاقتور لوگ خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے ارتکاب کے بعد بے خوف خطر بچ نکلتے رہے ہیں۔

معاشرے کی ستم ظریفی یہ کہ جن خواتین کو جنسی جرائم کا نشانہ بنایاگیا ابھی تک انھی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا رہا ہے جس کے سبب خواتین اکثر جنسی حملوں کے بارے میں ذکر نہ کرنا ہی بہتر سمجھتی تھیں۔

Image caption ’پہلی بار جنسی حملے کا ملزم شرمسار ہوا ہے‘

بھارت کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے جب ایک لڑ کی نے اپنی بے حرمتی کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی ہے بلکہ معاشرے کی اس کی دوہری اور قابل مذمت ذہنیت پر بھی چوٹ کی ہے جو ابھی تک مظلوم کو ہی نادم اور شرمسار کیا کرتی رہی ہے۔

ابھی کل تک ترون تیج پال بھارت کے انتہائی طاقتور مدیروں اور شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ آج وہی شخص اپنا چہرہ چھپانے کی جگہ تلاش کر رہا ہے۔ پہلی بار جنسی حملے کا ملزم شرمسار ہوا ہے۔ پہلی بار متاثرہ لڑکی کے دامن پر کیچڑ نہیں اچھالاگیا اور یہ پہلی بار ہوا ہے جب ایک طاقتور شخص اپنے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے ایک بے بس لڑکی سے کھلے عام معافی کا خواست گار ہوا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جسٹس اے کے گنگولی کے بارے میں سپریم کورٹ کی تفتیشی کمیٹی نے کیا رپورٹ دی ہے لیکن ملک میں جس طرح کی فضا بن چکی ہے اس میں یہ رپورٹ صرف جسٹس گنگولی کا ہی فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ یہ معاملہ خود سپریم کورٹ کے لیے بھی ایک ٹیسٹ کیس ہوگا۔

اسی بارے میں