غریب ڈاکیا 29 سال بعد چوری کے مقدمے سے بری

اماکانت مشرا
Image caption اماکانت مشرا اب 29 سال سے معطلی کے معاوضے کی جنگ لڑ رہے ہیں

بھارت کے ایک ڈاکیے کو ساڑھے تین سو کے قریب پیشیوں کے بعد چوری کے مقدمے سے بری کر دیا گیا ہے۔

اماکانت مشرا پر ایک ڈالر سے بھی کم رقم چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کے خلاف مقدمہ لڑتے ہوئے انھوں نے 29 برس لگا دیے اور بالآخر انھیں آزادی مل گئی۔

چور نے بیالیس سال بعد بائبل واپس کر دی

اس روز اماکانت مشرا پر ڈاک خانے سے 57 روپے اور 60 پیسے چوری کرنے کا الزام لگا تو ان کی نوکری بھی جاتی رہی۔

اب کانپور میں مقیم اماکانت مشرا عمر اور بیماری کی وجہ سے زیادہ بولنے کے قابل نہیں۔ تاہم طویل قانونی لڑائی کے بعد انھوں نے اب آرام کی سانس لی ہے اور تھوڑا ہلکا محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے ماتھے پر لگنے والا دھوکہ دہی کا داغ 29 سال بعد دھل چکا ہے۔

13جولائی 1984 کی بات یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’مجھے منی آرڈر کے طور 697 روپے اور 60 پیسے تقسیم کرنےتھے۔ میں نے 300 روپے تقسیم کیے اور باقی رقم ڈاکخانے کے نائب منتظم کے حوالے کر دی۔ پیسوں کی گنتی ہوئی تو 57.60 روپے کم نکلے۔ مجھ پر غبن کا الزام لگا کر ملازمت سے معطل کر دیا گیا اور پولیس میں رپورٹ لکھائی گئی۔‘

اس کے بعد انھیں جیل بھی جانا پڑا۔ جیل سے تو وہ دو دن میں چھوٹ گئے لیکن اس کے بعدایک لمبی قانونی لڑائی شروع ہو گئی۔ مقدمے کے دوران عدالت میں کل 348 تاریخیں پڑیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’کانپور میں میرا گھر تھا۔ عدالت میں مقدمہ لڑنے کے دوران میرا گھر بکا اور پھر ہردوئی ضلعے میں میرا کھیت بک گیا۔ اگر رشتہ دار سہارا نہ دیتے تو خاندان سڑک پر آ جاتا۔‘

گذشتہ 29 برسوں میں مشرا کے تین بچوں کی موت ہو چکی ہے۔ وہ بتاتے ہیں: ’تینوں بچے چھوٹے تھے۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا زندہ ہے۔ دونوں لڑکیوں کی شادی چندہ مانگ کر کی۔ بیٹے کو دسویں کلاس کے بعد پڑھا نہ پایا۔‘

29 سال بعد سیاہ داغ دھل جانے کے بعد مشرا اور ان کا خاندان خوش ہے۔ ان کی بیوی کہتی ہیں: ’ایک دن تمام رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو مٹھائی تقسیم کرنا ہے۔‘

مشرا کو پتہ ہے ان کی لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’1984 میں میں معطل ہوا، اس وقت سے لے کر میری ریٹائرمنٹ تک جتنا بھی پیسہ بنتا ہے، وہ مجھے ملنا چاہیے۔‘

محکمۂ ڈاک نے زبانی طور پر یقین دلایا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔

ان کے بیٹے کا کہنا تھا: ’ہم اپنا مطالبہ اوپر تک لے جا رہے ہیں۔ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو پورا خاندان صدارتی محل کے سامنے زہر کھا کر جان دے دے گا۔‘

اسی بارے میں