بھارتی کشمیر: ’مسلح تصادم میں تین شدت پسند ہلاک‘

فائل فوٹو
Image caption بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مسلح تشدد کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے لشکر طیبہ سے وابستہ تین پاکستانی عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تازہ تصادم شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلعے کی راجوار بستی میں ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق کشمیر پولیس اور بھارتی فوج نے راجوار میں ایک رہائشی مکان کا محاصرہ کیا جس کے بعد رات بھر وقفے وقفے سےفائرنگ ہوتی رہی۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ رات بھر تصادم جاری رہا اور منگل کی صبح مذکورہ مکان سے تین جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں۔

پولیس کے بقول تینوں عسکریت پسند پاکستانی باشندے ہیں اور ان کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔

راجوار کے ایک نوجوان شہری بلال احمد نے بی بی سی کو بتایا ’رات بھر محاصرہ جاری تھا۔ وقفے وقفے سے فائرنگ بھی ہوتی رہی۔ دیر رات کو ہم نے دیکھا کہ جس مکان میں عسکریت پسند تھے اس میں آگ لگی ہوئی ہے۔ پورا مکان خاکستر ہو گیا تھا۔ صبح تین جھلسی ہوئی لاشیں نکالی گئیں۔‘

پولیس کا دعویٰ ہے کہ آپریشن کےد وران تین کلاشنکوف رائفلیں اور دس دستی بم بھی برآمد کیے گئے۔

اس سے قبل پیر کے روز وسطی کشمیر کے چاڈورہ قصبے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کے ایک گشتی دستے پر فائرنگ کی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔

کشمیر پولیس کے سربراہ اشوک پرساد نے نئی دہلی کا دورہ مختصر کرکے چاڈورہ کا دورہ کیا۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں فی الوقت ایسے مسلح عسکریت پسند سرگرم ہیں جو حالیہ دنوں میں لائن آف کنٹرول عبور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مسٹر پرساد کا کہنا ہے کہ کشمیر میں 80 سے زائد عسکریت پسند ہیں جو مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔

اُدھر لائن آف کنٹرول پر چند ماہ قبل بھارتی اور پاکستانی افواج کے درمیان فائرنگ کی وجہ سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ پولیس اور فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اسی فائرنگ کے نتیجہ میں مسلح عسکریت پسند وادی میں داخل ہوجاتے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح میں کمی آئي تھی۔ لیکن اس سال فروری میں سابق عسکریت پسند افضل گورو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں خفیہ طور پھانسی دیے جانے کے بعد کشمیر میں مسلح تشدد کی نئی لہر چل پڑی ہے۔

اسی بارے میں