بھارت جوہری قوت میں اضافہ کر رہا ہے: امریکی تھنک ٹینک

کودنکولم پاور پلانٹ تمل ناڈو
Image caption رپورٹ کے مطابق بھارت نے سنہ 2010 میں میسور کے پاس اپنا دوسرا سنٹريفيوز پلانٹ بنانا شروع کیا

ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے ایک نیا جوہری پلانٹ قائم کیا ہے جس سے ممکنہ طور پر اس کی یورینیئم افزودگی کی صلاحیت میں خاصا اضافہ ہو جائے گا۔

جوہری عدم توسیع پر کام کرنے والے ادارے انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے انھیں پتہ چلا ہے کہ بھارت اپنے جنوبی علاقے میں میسور کے پاس گیس سنٹری فیوج پلانٹ کی تعمیر تقریباً مکمل کر چکا ہے۔

اس رپورٹ کے مصنف ڈیوڈ آلبرائٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نئے پلانٹ سے جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے یورینیئم کی افزودگی کی بھارتی صلاحیت میں کافی اضافہ ہو جائے گا۔

اس رپورٹ کے مطابق بھارت نے سنہ 2010 میں میسور کے پاس اپنا دوسرا سنٹري فيوج پلانٹ بنانا شروع کیا اور اپریل میں سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پلانٹ کی تعمیر کا کام مکمل ہو چکا ہے۔

آلبرائٹ نے بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ پہلے سے موجود پلانٹ کی جگہ لے گا یا پھر یہ ایک علیحدہ اور اضافی پلانٹ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا: ’اگر یہ ایک نیا پلانٹ ہے تو پھر بھارت کی یورینیئم افزودگی کی صلاحیت دگنی ہو جائے گی اور بھارت پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ایٹمی ہتھیار بنانے کا اہل ہو جائے گا۔‘

آلبرائٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے شاید کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کیونکہ حکومت نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’جہاں تک ہمیں علم ہے بھارت ابھی یہ بھی نہیں کہتا کہ ان کے پاس یورینیئم کی افزودگی کا ایسا کوئی کارخانہ موجود ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ کارخانہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی ہتھیار بنانے کی روز افزوں دوڑ کی علامت ہے۔

بھارت نے 1998 میں ایٹمی تجربہ کیا تھا اور اس کے فورا بعد پاکستان نے بھی اپنی ایٹمی طاقت کا اظہار کیا۔

Image caption بھارت نے 1998 میں ایٹمی تجربہ کیا تھا اور اس کے فوراً بعد پاکستان نے بھی اپنی ایٹمی طاقت کا اظہار کیا

بھارت نے پھر 2008 میں امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کیے جس میں کہا گیا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے۔

تاہم بھارت نے ابھی تک جوہری عدم توسیع کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے اور اسی لیے وہ اپنے ایٹمی ری ایکٹر کا بین الاقوامی معائنہ کروانے کا پابند بھی نہیں ہے۔

آلبرائٹ کا کہنا تھا کہ اس نئے پلانٹ سے بھارت نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی تو نہیں کی لیکن اس کے لیے جس طرح کے آلات کی ضرورت تھی وہ بین الاقوامی بازار سے غیر قانونی طریقے سے خریدے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت توانائی کی ضروریات کے لیے یہ افزودگی کر رہا ہے تو وہ اس پلانٹ کو بین الاقوامی معائنے کے دائرے میں لائے اور اس طرح وہ عالمی بازار سے جائز طریقے سے اپنی ضرورت کی چیزیں خرید سکے گا۔

اسی بارے میں