ایران: اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کا جوہری مرکز کا دورہ

Image caption عالمی طاقتوں سے معاہدے کے تحت معاہدے کے تحت ایران آرک کے مقام پر بھاری پانی کے جوہری منصوبے پر مزید کام نہیں کرے گا

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے معائنہ کاروں نے دو سال میں پہلی بار ایران کے جوہری مرکز آرک کا دورہ کیا ہے۔

دریں اثناء افغانستان اور ایران طویل المدتی تعاون کا سمجوتہ کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

ایران کے جوہری پروگرام پر ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں عبوری معاہدے کے قتریباً دو ہفتوں بعد جوہری ادارے آئی اے ای اے کے انسپکٹرز نے جوہری مرکز کا ایک روزہ دورہ کیا۔

معاہدے کے تحت ایران پابندیوں پر نرمی کے بدلے میں اپنی جوہری سرگرمیوں میں کمی لائے گا۔

معاہدے کے تحت آرک کے مقام پر بھاری پانی کے جوہری منصوبے پر مزید کام نہیں کیا جائے گا۔جوہری ہتھیاروں کے عالمی ادارے کو نتنانز اور فردو میں واقع جوہری تنصیبات تک روزانہ کی بنیاد پر رسائی دی جائےگی۔ان اقدامات کے بدلے میں چھ ماہ تک جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے ایران پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔

آرک کا زیر تعمیر جوہری مرکز اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کے مکمل ہونے کی صورت میں ایران پلوٹینیم کی افزدوگی کی صلاحیت کر لے گا جو کہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی جانب اہم قدم ہوتا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

صدر کرزئی ایران کے دورے پر

دوسری جانب افغانستان اور ایران طویل المدتی باہمی تعاون کا معاہدہ کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔

معاہدے کا اعلان صدر کرزئی نے ایران کے دورے کے دوران اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔

افغان صدر کرزئی نے چار کے ماہ کے اندر اندر دوسری بار ایران میں صدر حسن روحانی سے ملاقات کی ہے۔ صدر کرزئی نے ایران کا دورہ ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب امریکہ کی افغانستان کے ساتھ سال 2014 کے بعد اپنی فوج افغانستان میں رکھنے کے حوالے سے دونوں ممالک میں سکیورٹی معاہدہ تاخیر کا شکار ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کا موقف ہے کہ اس معاہدے پر دستخط سال دو ہزار چودہ میں افغان صدارتی انتخابات کے بعد کیے جانے چاہیے جبکہ ایران کا بھی کہنا ہے کہ امریکہ سے سکیورٹی معاہدہ افغانستان کے مفادات میں نہیں ہے۔

صدر کرزئی کے دورۂ ایران سے ایک دن پہلے ہی امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے افغانستان کا دورہ کیا لیکن انھوں نے افغان صدر سے ملاقات نہیں کی۔