انڈیا ڈائری: کونڈم دوا ہے یا طبی آلہ؟

کونڈم طبی آلہ ہے یا دوا؟

Image caption ٹیکس لگانے کے لیے یہ فیصلہ ہونا ہے کہ کنڈوم دوا ہے یا طبی آلہ!

الہ آباد ہائی کورٹ کے تاریخ ساز فیصلوں کی فہرست تو لمبی ہے لیکن لگتا ہے کہ اس مرتبہ گتھی ذرا زیادہ ہی الجھی ہوئی ہے۔

عدالت عالیہ کہ سامنے پہلے بھی غیر معمولی کیسز آئے ہیں، اور اس نے کبھی عجیب و غریب تو کبھی جرات مندانہ فیصلے بھی دیے ہیں۔

اسی عدالت نے بابری مسجد رام جنم بھومی کیس میں متنازع اراضی تینوں فریقوں کے درمیان تقسیم کی اور اس سے بہت پہلے انیس سو پچھہتر میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے ان کی پارلیمان کی رکنیت کالعدم قرار دی۔ اسی فیصلے کے نتیجے میں اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی لگائی اور انجام کار تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک میں غیر کانگریسی سرکار بنی۔

لیکن اس مرتبہ معاملہ کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ تنازع ٹیکس کی شرح پر ہے اور اب عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کونڈم دوا ہے یا طبی آلہ!

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا!

دشمن کی محبت میں گرفتار!

Image caption عام آدمی پارٹی کا انتخابی نشان جھاڑو تھا

تاریخ گواہ ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے نے ملک کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا، کچھ ویسی ہی تبدیلی آئی جیسے دہلی میں عام آدمی پارٹی کے ابھرنے سے آرہی ہے۔

عام آدمی پارٹی کا انتخابی پلیٹ فارم تقریباً وہی ہے جس پر سوشلسٹ رہنما راج نارائن نے اندرا گاندھی کے الیکشن کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ یعنی بدعنوانی اور الیکشن میں سرکاری مشینری کا بے جا استعمال۔

بس اب وقت بدل گیا ہے۔ اندرا گاندھی نے عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے ایمرجنسی لگائی تھی لیکن چار ریاستوں میں شکست فاش کے بعد کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے کہا کہ ہمیں عام آدمی پارٹی سے سبق سیکھنا چاہیے اور عام لوگوں کی بات سننی چاہیے۔

سیاست بھی کیا گل کھلاتی ہے! لیکن سوال یہ ہے کہ 65 سال کی حکمرانی کے بعد اب اس تکلف کی کیا ضرورت ہے، اگر ان کی حکمت عملی اتنی ہی پسند آرہی ہے تو 2014 کا پارلیمانی انتخاب عام آدمی پارٹی کو ہی آؤٹ سورس کیوں نہیں کر دیتے!

میرے کان کا بالا!

Image caption ایئر انڈیا خسارے کا شکار ہے

آخرکار یہ راز کھل ہی گیا کہ حکومت (قومی ایئر لائن) ایئر انڈیا کو نکیل ڈالنے میں کیوں ناکام رہی ہے!

ایئر انڈیا کے جہاز اگر آپ نے دیکھے ہوں تو اس کے میسکوٹ ’مہاراجہ‘ سے آپ ضرور واقف ہوں گے۔ بڑی سی لال پگڑی، سرخ شیروانی، بڑی بڑی گھماؤ دار مونچھیں لیکن ملک میں عہد رفتہ کے باقی مہاراجاؤں کی طرح ایئر انڈیا کی حالت بھی نازک ہے، کمپنی کو ہر سال ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

لیکن حال ہی میں ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ ایئر انڈیا کا ایک جہاز پرواز کرنے کو تھا کہ طیارے کے کمانڈر اور ان کے سپروائزر میں تکرار ہوگئی۔

اختلاف کان کے بندوں پر تھا۔ ایئر انڈیا میں بندے پہننے کی اجازت نہیں ہے لیکن چھوٹے مہاراجہ نہیں مانے۔ ایک گھنٹے کی کوشش کے بعد کمپنی کے اہلکاروں نے انہیں بندوں کے ساتھ ہی پرواز کرنے کی اجازت دیدی۔

ایئر انڈیا کے ضابطۂ اخلاق کے مطابق پائلٹ نہ لمبے بال رکھ سکتے ہیں اور نہ چوٹی باندھ سکتے ہیں، نہ بڑی ڈراؤنی موچھوں کی اجازت ہے نہ لمبی قلموں کی اور نہ وہ کان میں کچھ پہن سکتے ہیں اور نہ ناک میں۔

اسی لیے شاید حکومت ان کی ناک میں نکیل ڈالنے میں ناکام رہی ہے، کیونکہ یہ خود اس کے اپنے ہی تعین کردہ ضابطوں کی صریح خلاف ورزی ہوگی!

لیکن کان کے بندے پھر بھی غنیمت ہیں۔ سات مہینے پہلے تو یہ خبر آئی تھی کہ بنکاک جانے والی ایک پرواز کے دوران دونوں پائلٹ جہاز کی کمان ائر ہوسٹس کے سپرد کر کے فرسٹ کلاس میں سونے چلے گئے تھے!

ائر انڈیا نے اس بات سے انکار کیا تھا لیکن اس بات سے نہیں کہ ائر ہوسٹس نے کافی وقت کاک پٹ میں گزارا تھا۔

ائر انڈیا کے میسکوٹ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں