دہلی میں حکومت سازی تعطل کا شکار

Image caption بی جے پی رہنما اور عام آدمی پارٹی کے رہنما دونوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ حکومت سازی میں پہل کے بجائے انتخابات کا سامنا کرنے کو تیار ہیں

دہلی میں ریاستی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں تعطل جاری ہے کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کو مطلوبہ 36 نشستیں حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔

تاہم اسی درمیان دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار ہرش وردھن کو بات چیت کے لیے بلایا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق نجیب جنگ نے بی جے پی کے رہنما ہرش وردھن سے فون پر بات کی اور ان سے کہا کہ وہ نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں ان سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔

دریں اثنا بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے کہا ہے کہ ’نائب گورنر حکومت سازی کے تمام امکانات پر غور کریں گے۔ فی الحال اس عمل میں وزارتِ داخلہ کا کوئی کردار نہیں ہے۔‘

نائب گورنر کی جانب سے اس دعوت کے بعد حکومت سازی کی سرگرمی میں تیزی آئی ہے تاہم آئندہ سال پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر کوئی بھی جماعت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتی جس سے اس کی شبیہ مجروح ہو کیونکہ دہلی اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں عوام نے برسرِ اقتدار کانگریس جماعت کو بدعنوانی کے خلاف مہم کے نتیجے میں مسترد کر دیا ہے۔

بی جے پی کو اکالی دل کے ایک رکن اسمبلی کی حمایت حاصل ہے لیکن اس کے باوجود وہ حکومت کی تشکیل کے لیے مطلوبہ 36 ممبران اسمبلی کے اعداد و شمار سے چار سیٹیں پیچھے ہے۔

عام آدمی پارٹی نے ان انتخابات میں 28 سیٹیں حاصل کی ہیں لیکن ان کا واضح طور پر یہ کہنا ہے کہ نہ تو وہ کسی جماعت کو حمایت دیں گے اور نہ ہی کسی سے حمایت لیں گے۔

ریاست میں کانگریس کو آٹھ سیٹوں پر فتح حاصل ہوئی ہے جبکہ ایک سیٹ جنتا دل یونائیٹڈ اور ایک سیٹ ایک آزاد امیدوار کے حصے میں آئی ہے۔

دہلی سے بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ ’عام حالات میں بی جے پی اب تک آسانی سے تین ارکان دوسری جماعتوں سے توڑ کر اپنی حکومت بنا چکی ہوتی۔ لیکن ‏نو وارد سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی آمد کے بعد بی جے پی یہ جرات نہیں کر پا رہی کہ وہ ارکان کی خرید و فروخت کرتی ہوئی دیکھی جائے۔‘

ہرش وردھن نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ انہوں نے گورنر سے کہا ہے کہ وہ رمن سنگھ کی حلف برداری کی تقریب میں شامل ہونے کے لیے چھتیس گڑھ جا رہے ہیں اور جمعرات شام تک دہلی واپس آنے کے بعد ہی وہ نجیب جنگ سے ملاقات کر سکیں گے۔

ہرشوردھن نے کہا ’نائب گورنر نے مجھے رات فون کیا اور مجھ سے کہا کہ وہ بات چیت کے لیے ملنا چاہتے ہیں۔‘

Image caption لگاتار تین بار دہلی کی وزیراعلی رہنے والی کانگریس رہنما شیلا دکشیت کو عوام نے مسترد کر دیا ہے

بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ چونکہ ان کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے اس لیے وہ حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں پہل نہیں کریں گے اور وہ دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

دریں اثنا بدھ کو عام آدمی پارٹی نے دہلی کے جنتر منتر پر منعقدہ شکریہ ریلی میں بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پارٹی رہنما کیجریوال نے کہا کہ ’سو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی۔ ان (بی جے پی) کے پاس 32 ممبران اسمبلی ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی حکومت بنانے سے انکار کر رہی ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ ہم کسی طرح کی جوڑ توڑ نہیں کریں گے۔ کانگریس اور بی جے پی کو مل کر حکومت بنانی چاہیے کیونکہ دونوں میں بہت سی مماثلتیں ہیں۔ دونوں خراب ہیں، فرقہ پرست ہیں، فساد کرواتی ہیں۔‘

کیجریوال کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑے گی تو ان کی پارٹی دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اقتدار حاصل کرنے کے لیے میدان میں نہیں آئے ہیں، ہم نظام میں تبدیلی کے لیے آئے ہیں۔

اسی بارے میں