نیٹو افواج کیسا افغانستان چھوڑ کر جائیں گی

Image caption افغانستان کی ساڑھے تین لاکھ افواج کی تنخواہوں کا دار و مدار غیر ملکی امداد پر ہے

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پیر کے روز کہا تھا کہ افغانستان میں ’مشن کی تکمیل‘ کے بعد تمام برطانوی فوجی افغانستان سے لوٹ رہے ہیں۔ پیر کے روز ہی آخری آسٹریلوی فوجی دستہ بھی افغانستان سے چلا گیا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنہ 2001 میں جب امریکی سربراہی میں نیٹو افواج نے افغانستان پر یلغار کی تو افغانستان میں امن کی بحالی، تعلیم کے فروغ اور جمہوریت کے فروغ کا وعدہ کیاگیا تھا۔ اب جب تمام غیر ملکی 2014 میں افغانستان کو چھوڑ کر جانے کا ارادہ کر چکے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا کہ غیر ملکی افواج بارہ برس بعد کیسا افغانستان چھوڑ کر جا رہی ہیں۔

سکیورٹی

یہ سچ ہے کہ نیٹو افواج نے افغانستان میں القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کر کے انہیں وہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے لیکن القاعدہ سے ہمدردی رکھنے والے طالبان اب بھی ملک کے بہت سارے علاقوں میں سرگرم ہیں اور صوبہ ہلمند سمیت جنوب مشرقی علاقوں میں چند اضلاع بھی ان کے کنٹرول میں ہیں۔

افغانستان کے صوبے ہلمند میں جہاں برطانوی افواج کا کنٹرول تھا وہاں تمام انتظام معاملات مقامی حکام کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ افغانستان میں نیٹو افواج کی موجودگی میں افغانستان کی فوج کو ایک بار پھر مضبوط بنیادوں پر استوار کیاگیا ہے۔ افغانستان کی موجودہ فوج ساڑھے تین لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔

Image caption افغانستان کے بعض علاقوں میں طالبان کی عملداری قائم ہے

دو ہزار تیرہ میں افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داری تمام افغانستان کی فوج کے حوالے کی جا چکی ہے۔ ملک میں سکیورٹی کی ذمہ داری افغان فوج کے حوالے کیے جانے کے بعد ملک میں اموات کی شرح میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

افغانستان کی موجودہ فوج اور پولیس کو برقرار رکھنے کے لیے تقریباً پانچ ارب ڈالر سالانہ درکار ہوتے ہیں جو بین الاقوامی مدد سے پورے کیے جاتے ہیں۔ عالمی برادری کی مالی مدد کے بغیر افغانستان کو موجودہ فوج اور پولیس کو برقرار رکھنا افغانستان کے لیے ناممکن ہو گا۔ اس تمام امداد میں بڑا حصہ امریکہ سے آتا ہے۔

2014 میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے جزوی انخلا کے بارے میں امریکہ اور افغانستان میں ایک اورسکیورٹی معاہدے ہر بات چیت جاری ہے۔ صدر حامد کرزئی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ شاید اس معاہدے پر دستخط نہ کریں اور یہ کام اپریل میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے صدر کو کرنا چاہیے۔

منشیات

2001 میں نیٹو کی افغانستان پر یلغار کے بعد افغانستان میں منشیات کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ افغانستان دنیا میں ہیروئن کی کل پیداوار کا نوے فیصد پیدا کرتا ہے۔

Image caption افغانستان دنیا میں ہیروئن کی کل پیداوار کا نوے فیصد پیدا کرتا ہے

نیٹو افواج کی کوششوں کے باوجود افغانستان میں پوست کی کاشت دو لاکھ ہیکٹرتک پھیل چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق پہلی بار افغانستان میں اتنے بڑے پیمانے پر ہیروئن کی کاشت کی جا رہی ہے۔

منیشات کی آمدن سے افغانستان میں مزاحمت کی تحریکوں کو فنڈ کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان کو سالانہ منشیات کی پیدوار اور فروخت سے سو ملین ڈالر وصول ہوتے ہیں۔

معیشت

پچھلے بارہ برسوں میں افغانستان دسویں ارب ڈالر کی امداد ملی ہے جس سے ملک ترقی کی نئی راہیں کھلی ہیں۔ بیرونی امداد سے ہونے والی ترقی نے لاکھوں افغانوں کی زندگیوں کو بھی بدل دیا ہے۔ بیرونی مدد سے افغانستان میں ہزاروں کلو میٹر نئی سڑکیں بنی ہیں، ہزاروں نئے سکول کھولے گئے ہیں اور چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں طبی مراکز قائم ہو چکے ہیں۔

Image caption غیر ملکی امداد سے افغانستان میں ترقی ہوئی ہے

افغانستان کے مواصلاتی رابطے ساری دنیا سے قائم ہیں۔ تین کروڑ کی آبادی کے ملک افغانستان میں دو کروڑ موبائل فون کے صارف ہیں۔ مواصلات کا شعبہ افغانستان کا سب سے منافع بخش محکمہ ہے جہاں سے حکومت کو ٹیکس ملتا ہے۔

لیکن ان تمام حقائق کے باوجود افغانستان کا شمار دنیا کے غریب ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ اب بھی ملک میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں بیرونی امداد سے ہونے والی ترقی کے ثمرات نہیں پہنچے ہیں۔

بعض افغانوں کی رائے میں بیرونی امداد کا ایک بڑا حصہ ضائع کر دیا گیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس امداد کا تصرف بڑے منصوبوں، ڈیموں، ہاؤسنگ سکیموں اور صعنتی زون بنانے میں ہوتا تو اس سے افغانستان میں حقیقی ترقی کا خواب پورا ہو سکتا تھا۔

مجموعی طور افغانستان کی معیشت کا انحصار اب بھی غیر ملکی امداد پر ہے۔

ادارے

دو عشروں پر محیط خانہ جنگی نے افغانستان میں تمام ادارے تباہ و برباد کر دیے تھے۔ گزشتہ بارہ برسوں میں اس اداروں کی تعمیر میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی ہے۔

یہ ادارے نہ صرف دارالحکومت کابل میں کام کر رہے ہیں بلکہ تمام صوبے میں ادارے قائم ہو چکے ہیں۔ افغانستان کے دنیا کے ستر ممالک میں سفارت خانے قائم ہیں اور اسے تمام عالمی تنظیموں میں نمائندگی حاصل ہے۔

لیکن افغانستان میں اب بھی اچھی حکمرانی کا فقدان ہے۔ ملک میں بدعنوانی کا دور دورہ ہے۔ حال ہی ٹرانسپیرنسی انٹرنشینل کی رپورٹ میں افغانستان بدعنوانی میں بدترین ممالک کی فہرست میں ہے۔ البتہ افغانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں ۔ افغانوں کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کی زیادہ شکایتیں انٹرنیشنل کنٹریکٹ دیئے جانے کے حوالے سے ہیں۔

امن مذاکرات

2010 میں افغانستان میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات کا آغاز ہوا۔ 2013 میں بالآخر طالبان سے بات چیت کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحا میں طالبان کا دفتر کھولا گیا ۔ لیکن افغان صدر حامد کرزئی کے رد عمل کے بعد طالبان کا دفتر نہ صرف بند ہو چکا ہے بلکہ اس بات چیت کا سلسلہ بھی ختم ہو چکا ہے۔

Image caption قطر میں طالبان کا دفتر بند ہو چکا ہے

افغان حکومت طالبان کے بعض افراد سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ طالبان کا موقف ہے کہ وہ اس وقت تک لڑائی بند نہیں کریں گے جب تک افغانستان کی سرزمین پر غیر ملکی افواج موجود ہیں۔

انسانی حقوق

نیٹو افواج کی موجودگی میں انسانی حقوق کے سلسلے میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ ملک میں ایک متحرک سول سوسائٹی قائم ہو چکی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں بے تحاشا ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ ملک میں درجنوں ٹی وی چینل قائم ہو چکے ہیں لیکن آزادی اظہار اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

Image caption افغانستان کی عورتوں کو قانون ساز اسمبلیوں میں نمائندگی مل چکی ہے

عورتوں کو کام کرنے کی آزادی ہے اور انہیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی بھی حاصل ہے۔ لیکن عورتوں کے خلاف تشدد اور امتیازی روایہ اب بھی موجود ہے۔

آج بھی افغانستان کے کئی ملین شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ افغانستان کے تیس لاکھ کے قریب شہری اب بھی پاکستان اور ایران میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں