ملا کی پھانسی پر پاکستانی قرارداد غیرضروری: بنگلہ دیش

Image caption 65 سالہ عبدالقادر ملا کو جمعرات کی رات پھانسی دی گئی تھی

بنگلہ دیش نے جماعتِ اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کی پھانسی کے خلاف پاکستان کی قومی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری پر پاکستانی ہائی کمشنر سے وضاحت طلب کی ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ عبدالقادر ملا پر مقدمہ اور انھیں دی گئی سزا ملک کا اندرونی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی اسمبلی کی قرارداد غیر ضروری ہے۔

’ملا کو پاکستان سے وفاداری پر پھانسی دی گئی‘

وزارتِ خارجہ کے مطابق اس سلسلے میں ڈھاکہ میں پاکستانی سفارت کار کو طلب کیا گیا اور ان سے اس معاملے پر وضاحت کرنے کو کہا گیا ہے۔

1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران جنگی جرائم میں ملوث پائے جانے والے 65 سالہ عبدالقادر ملا کو جمعرات کی رات پھانسی دی گئی تھی۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے پیر کو ان کی پھانسی کے خلاف قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی تھی۔

جماعت اسلامی کے ایک رکن کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ’یہ ایوان بنگلہ دیش کے بزرگ رہنما عبدالقادر ملا کو 1971 میں پاکستان کا ساتھ دینے کی پاداش میں پھانسی دینے پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔‘

Image caption پاکستان میں مذہبی جماعتوں نے عبدالقادر ملا کو پھانسی دیے جانے کے خلاف احتجاج کیا ہے

اس قرارداد میں بنگلہ دیش کی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ وہ 1971 کے معاملات کو دوبارہ زندہ نہ کرے اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے تمام مقدمات کو افہام و تفہیم کے جذبے کے تحت ختم کیا جائے۔

اس موقعے پر اپنے خطاب میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے عبدالقادر ملا کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ عبدالقادر ملا متحدہ پاکستان کے حامی تھے اور اب گڑے مردے اُکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

عبدالقادر ملا کی پھانسی کے بعد پاکستان میں جماعت اسلامی کی طرف سے ملک گیر مظاہرے بھی ہوئے تھے اور مختلف شہروں میں ان کی غائبانہ نمازجنازہ بھی ادا کی گئی تھی۔

بنگلہ دیش کی علیٰحدگی کے دوران سنہ 1971 کے واقعات میں پاکستانی فوج پر مبینہ زیادتیوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیشی عوام سے معافی مانگے۔ تاہم اب تک پاکستان سرکاری سطح پر معافی مانگنے سے گریز کر رہا ہے۔

اسی بارے میں