امریکی جہاز سے ٹکر ہوتے ہوتے بچی: چین

Image caption چینی میڈیا نے کہا ہے کہ امریکی جہاز چینی فوجی سلامتی کے لیے خطرہ تھا

چین نے کہا ہے کہ اس کے ایک جنگی جہاز کی امریکی جہاز سے ٹکر ہوتے ہوتے بچی، تاہم اسے کسی طرح سے ٹال دیا گیا۔

اس بیان سے رواں مہینے کے شروع میں دی جانے والی اس امریکی رپورٹ کی تصدیق ہو جاتی ہے جس میں کہا کيا تھا کہ جنوبی بحیرۂ چین میں تصادم کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔

امریکہ نے کہا تھا کہ پانچ دسمبر کو ان کے گائیڈڈ میزائل کروزر یو ایس ایس کاؤپنز کو اس وقت گریز کی راہ اختیار کرنی پڑی جب ایک چینی جہاز اس کے بالکل سامنے آ گیا۔

اطلاعات کے مطابق سنہ 2009 کے بعد سے جنوبی بحیرۂ چین میں امریکہ اور چین کے درمیان اسے سب سے بڑے تصادم کے خطرے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

بہر حال چین نے کہا ہے اس حادثے کو ’سخت پروٹوکل‘ کے تحت نمٹا لیا گیا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ان کا جہاز بین الاقوامی سمندر میں چل رہا تھا۔

واضح رہے کہ چین جنوبی بحیرۂ چین کے کچھ حصوں پر دعویٰ کرتا ہے۔ چین کے ایک سرکاری اخبار نے ایک ماہر کے حوالے سے کہا ہے کہ ’امریکی جہاز چینی طیارے لیوننگ کو مشق کے دوران ہراساں کرتا رہا ہے۔‘

یہ واقعہ گذشتہ دنوں سامنے آیا جب امریکی حکام نے اس کے بارے میں بتایا۔

امریکی پیسفک فلیٹ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’امریکی جہاز یو ایس ایس کاؤپنز جب بین الاقوامی سمندری حدود میں چل رہا تھا اس وقت پی ایل اے (چینی لبریشن آرمی) کا ایک بحری جہاز اس کے سامنے آ گیا جس سے ٹکر سے بچنے کے لیے بہت کوشش کرنا پڑی۔‘

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک دفاعی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ ’دونوں جہاز کے اہل کاروں نے ایک دوسرے سے بات کی اور ایک دوسرے کے لیے محفوظ راستے فراہم کیے۔‘

روئٹرز کے مطابق امریکہ کے ایک اہل کار نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ ’امریکہ نے چین کے ساتھ اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا تھا۔‘

بدھ کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں چین کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ’دونوں جہاز معمول کی گشت کے دوران آمنے سامنے آ گئے تھے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’چینی جہاز نے سختی کے ساتھ پروٹوکول کی پابندی کی۔‘

واضح رہے کہ حالیہ واقعہ چین کے مشرقی سمندر میں چین کی جانب سے فضائی حدود میں توسیع کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ چین کے اعلان پر جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔

منگل کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ مشرقی چینی سمندر میں چینی فضائی زون کا نفاذ عمل میں نہیں آنا چاہیے اور یہ کہ چین کو اس قسم کے یک طرفہ اقدامات سے باز رہنا چاہیے بطورِ خاص جنوبی بحیرۂ چین میں۔

اسی بارے میں