بس امریکہ معافی مانگے: بھارت کا مطالبہ

Image caption امریکہ میں بھارتی سفارت کار کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہوا ہے ، وہ ویانا معاہدے کی خلاف ورزی ہے

بھارت میں ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں اراکین نے امریکہ میں بھارتی سفارت کار کے ساتھ ہونے والے ’ناروا سلوک‘ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے امریکہ سے معافی کا مطابلہ کیا ہے۔

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ امریکہ میں ہندوستانی سفارت کار ’دیویانی كھوبراگاڑے کو بحفاظت ملک واپس لانے کی ذمہ داری میری ہے اور میں انھیں واپس لا کر دكھاؤں گا۔‘

واضح رہے کہ دیویانی پر امریکہ میں ویزا قوانین کے سلسلے میں جعل سازی کے الزامات کا سامنا ہے اور اسی لیے انھیں برہنہ کرکے ان کی جامہ تلاشی لی گئی ہے۔

نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے باہر اس کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے بدھ کے روز بھارت کے ایوانِ بالا میں امریکہ میں بھارتی سفارت کار کی گرفتاری پر سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’اس موضوع پر برسرِ اقتدار پارٹی اور اپوزیشن کو ایوان اور ایوان کے باہر یا میڈیا میں ایک سُر میں بولنا ہوگا۔۔۔ اس معاملے پر ہم مختلف رائے ظاہر نہیں کر سکتے۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے ہندوستانی سفارت کار کے ساتھ جو کیا ہے، وہ کسی بھی قیمت پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بابت خبر موصول ہوتے ہی حکومت نے مناسب ذرائع سے فوری طور پر رد عمل کا اظہار کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی وزارت بھارتی سفارت کار کو امریکہ میں ہر ممکن قانونی اور دیگر طرح کی مدد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انھوں نے اس پورے معاملے کو سازش بتایا۔

وزیرِ خارجہ نے ایوان کو اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات کی معلومات دیں۔ انھوں نے کہا کسی بھی امریکی سفارت کار کو نیا شناختی کارڈ جاری نہیں کیا جائے گا اور انھیں بغیر محصول کے سامان درآمد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب امریکہ میں اسے معمول کی کارروائی بتایا گیا ہے۔ نیویارک سے صحافی سلیم رضوی کے مطابق ’امریکی نظام کے تحت گرفتاری کے بعد امریکی وزارتِ خارجہ کا کردار ختم ہو جاتا ہے ، اس لیے وزارت خارجہ کے سکیورٹی ایجنٹوں نے ہندوستانی سفارت کار کو امریکہ کی وفاقی عدالتی نظام کے تحت سکیورٹی ایجنسی یعنی امریکی مارشل سروس کے حوالے کر دیا۔‘

امریکی مارشل سروس کے ایجنٹوں یہ کام ہوتا ہے کہ وہ قیدیوں کو عدالت میں پیش کرنے سے پہلے ان کی نگرانی کریں اور مکمل طور ان کی چھان بین بھی کریں تاکہ کوئی ہتھیار چھپا کر نہ لے جا سکے۔

اسی لیے دیویانی كھوبراگاڑے کو عدالت میں جج کے سامنے پیش کیے جانے سے پہلے جس سیل میں انھیں رکھا گیا تھا وہاں امریکی وفاقی قانون کی کئی دیگر خواتین ملزم بھی موجود تھیں اور ان کی جامہ تلاشی لی گئی۔

Image caption امریکی حکام نے یہ تصدیق بھی کی ہے کہ دیویانی کھوبرا گڑے کو گرفتاری کے بعد برہنہ تلاشی کا سامنا بھی کرنا پڑا

اس سے پہلے راجیہ سبھا میں ممبران نے اس معاملے کو ملک کی توہین قرار دیتے ہوئے حکومت سے سخت قدم اٹھانے کی مانگ کی۔ ارکان کا مطالبہ تھا کہ اس معاملے میں سفارتی سطح پر درج مقدمہ واپس لیا جائے اور اس کے لیے امریکہ معافی مانگے۔

بحث کا آغاز راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے کیا۔ انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور اسے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیا۔

جنتا دل یونائٹڈ کے شیوانند تیواری نے کہا کہ ’امریکہ میں بھارتی سفارت کار کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہوا ہے ، وہ ویانا معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘

حکومت کے رد عمل کی حمایت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پہلی بار حکومت نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دیویانی كھوبراگاڑے پر درج معاملے کو واپس لیتے ہوئے امریکہ کو بھارت سے معافی مانگنی چاہیے۔‘

سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے کہا کہ ’اس واقعے کے بعد پورے ملک میں غصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں یہ اس طرح کا پہلا واقعہ نہیں ہے ، وہاں اس طرح کے سلوک پہلے جارج فرنانڈیز، سابق صدر اے پی جے عبدالکلام، فلم اداکار شاہ رخ خان اور اتر پردیش کے وزیر اعظم خان کے ساتھ بھی ہو چکے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کے واقعات پر پہلے سخت ردِعمل ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے ہی امریکہ نے پھر ایسی حرکت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک ہم امریکہ کو بڑا تسلیم کرتے رہنے کے احساسِ کمتری سے آزاد نہیں ہوں گے ، تب تک اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔‘

اسی بارے میں