بھارتی فن پاروں کی سب سے بڑی نیلامی

Image caption سال بعد کرسٹی بھارت میں پہلی بار نیلامی شروع کر رہا ہے

لندن کا معروف نيلام گھر کرسٹی پہلی بار بھارت کے اقتصادی شہر ممبئی میں بھارتی نوادرات کی نیلامی کر رہا ہے۔

کرسٹی نے سنہ 1766 میں لندن میں اپنی پہلی نیلامی میں بھی ہندوستانی فنکاروں کے چار فن پاروں کو شامل کیا تھا۔ اب 247 سال بعد کرسٹی بھارت میں پہلی بار نیلامی شروع کر رہا ہے۔

اس نیلامی میں کل 83 فن پارے شامل ہیں اور اس کے ذریعے گذ شتہ 100 سالوں کے دوران بھارت میں فن کی تاریخ کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس میں بھارت کے معروف فنکاروں طیب مہتا، مقبول فدا حسین، رام کمار، وی ایس گائے تندے، جےمني رائے، ایس ایچ رضا، امرتا شیرگل، نند لال بوس اور نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کی پینٹنگز شامل ہیں۔

رابندر ناتھ ٹیگور، امرتا شیرگل اور نند لال بوس کی پینٹنگز کو قومی وراثت کا حصہ تسلیم کیا گیا ہے، اس لیے ان کے فن پاروں کو بیرون ممالک لے جانا ممکن نہیں۔

کرسٹی کے مطابق اس نیلامی کا مقصد ایشیائی خريداروں کو متوجہ کرنا ہے۔ اس سلسلے میں کرسٹی نے گذشتہ ستمبر میں چین میں اپنی پہلی نیلامی کی تھی۔

Image caption ایس ايچ رضا کی یہ پینٹنگ بھی اس نیلامی کا حصہ ہے

عالمی کساد بازاری کے سبب فن پاروں کی خرید و فروخت بھی متاثر ہوئی ہے تاہم بھارت میں کرسٹی کی چیف سونل سنگھ کہتی ہیں کہ ’گذشتہ چند برسوں میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ فن کا بازار ایک بار پھر سے عروج پر ہے۔ جب بھی کوئی بہترین فنی نمونہ سامنے آتا ہے، اسے اچھی قیمت ملتی ہے۔‘

دہلی کی وڈھیرا آرٹ گیلری کی ڈائرکٹر روشنی وڈھیرا نے کہا: ’اس نیلامی میں ماڈرن ماسٹرز کے اعلیٰ معیار، نوادرات اور قومی افتخار والے فنکاروں کی نایاب پینٹنگز نیلامی کے لیے دستیاب ہوں گی۔‘

ان میں سے زیادہ تر پینٹنگز كیكو گاندھی کے ذخیرے سے ہیں۔ کیکو گاندھی کا بھارت میں جدید فن کے فروغ میں اہم کردار ادا رہا ہے۔ ان کی اہلیہ خورشید گاندھی کے ذخیرے کے بعض فن پارے بھی اس نیلامی میں شامل ہیں۔

کرسٹی نے کیکو گاندھی کے ذاتی کلکشن کی پینٹنگز کو نیلامی میں ماسٹرپيس کا درجہ دیا ہے۔ اس میں گائے تنڈے کا ایک چھوٹا سا لینڈ سکیپ، مہتا کی فالنگ فیگر، جیمني رائے کا فن پارہ ایک خاتون کا سر اور ایم ایف حسین کا گاندھی خاندان کو پیش کردہ ایک فیملی پورٹریٹ شامل ہے۔

اس نیلامی میں سب سے پرکشش طیب مہتا کی بڑی کینوس والی تصویر ’مہیسا سر‘ ہو سکتی ہے۔ مہیساسر ایک اساطیری ہندو عفریت راجہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا آدھا جسم انسان کا تھا اور آدھا حصہ بھینس کا تھا۔

Image caption اس نیلامی میں کل 83 فن پارے شامل ہیں

گذشتہ سال کرسٹی نے مہیسا سر سیریز کے ایک فن پارے کو لندن میں تقریباً 13 کروڑ بھارتی روپے میں فروخت کیا تھا جب کہ اسی سیریز کے آرٹ ورک کو نیویارک میں سنہ 2005 میں تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے میں فروخت کیا گیا تھا۔

کرسٹی لندن اور نیویارک میں گذشتہ کئی سالوں سے بھارتی فن پارے فروخت کر رہا ہے۔

نیلام گھر کا اندازہ ہے کہ وہ ممبئی میں 36 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک کی نیلامی کر لے گا۔

تاہم بعض تجزیہ نگار اس کی ٹائمنگ پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیونکہ فی الحال ہندوستانی معیشت سست روی کا شکار ہے۔ لیکن کرسٹی کو اس نیلامی سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔

کرسٹی کے ایشیائی آرٹ کے انٹرنیشنل ڈائرکٹر ڈاکٹر امین جعفر نے کہا: ’آرٹ مارکیٹ مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بھارتی بین الاقوامی پینٹنگز، زیورات اور گھڑیاں خرید رہے ہیں۔‘

بھارت میں 103 ارب پتی اور ایک لاکھ 82 ہزار كروڑپتی افراد کے پیش نظر یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ہندوستانی آرٹ مارکیٹ میں لا محدود امکانات ہیں۔

اسی بارے میں