جاپانی فوجی حکمت عملی پر چینی تنقید

Image caption جاپان دفاع پر خرچ کرنے کے معاملے میں دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے

چین نے جاپان کی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی کو توسیع پسندانہ فوجی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق وزارت دفاع کے ترجمان گینگ یانشینگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان اقدام سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگی۔

اس سے قبل رواں ہفتے جاپان نے کہا تھا کہ وہ ڈرونز اور بحر و بر دونوں جگہوں پر چلنے والی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ جدید ترین ساز و سامان اور مشینیں خریدنے جا رہا ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جبکہ مشرقی چینی سمندر کے چند جزائر پر ٹوکیو اور بیچنگ کے درمیان تلخی اور کشیدگی ہے اور دونوں ممالک ان جزائر پر مالکانہ حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترجمان نے کہا ہے کہ ’چین جاپان کے اس حسب حال عمل کے سخت خلاف ہے۔‘

انھوں نے ٹوکیو پر الزام لگایا کہ وہ ملکی سلامتی کے بہانے اپنی فوج میں توسیع کر رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جاپان کی سکیورٹی پالیسی پڑوسی ممالک کے لیے ’شدید تشویش کا باعث ہے۔‘

واضح رہے کہ جاپان نے فوج پر کیے جانے والے اپنے اخراجات میں اضافے کا اعلان چین کی جانب سے مشرقی چینی سمندر میں فضائی دفاعی حدود کے اعلان اور نشاندہی بعد سامنے آیا ہے۔ اس فضائی دفاعی حددود میں وہ جزائر بھی شامل ہیں جن پر جاپان کا کنٹرول ہے۔

وزیراعظم شنزو ایبے نے کہا تھا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ فوج کے دائرۂ کار میں توسیع کی جائے جن پر جاپان اب تک جنگ کے بعد کے قانون پرسختی سے کاربند ہے۔

آئندہ پانچ برسوں میں جاپان میزائل شکن توپیں، آب دوز، بحر و بر دونوں جگہوں میں چلنے والی 52 گاڑیاں، نگرانی کرنے والے ڈرونز، امریکی جنگی طیارے، اور عمودی پرواز کی صلاحیت والے 17 بوئنگ آسپرے طیارے خریدنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

سٹاک ہوم بین الاقوامی پیس ریسچر ادارے کے مطابق جاپان دفاع پر خرچ کرنے کے معاملے میں پانچویں نمبر پر ہے جبکہ چین امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

اسی بارے میں