موزمبیق: طیارہ ’پائلٹ نے جان بوجھ کر گرایا‘

Image caption اس سے قبل نیمبیا کے تفتیش کاروں نے کہا تھا کہ انہیں جہاز میں کسی تکنیکی خرابی کے شواہد نہیں ملے ہیں

موزمبیق کے ہوا بازی کے ماہرین کا خیال ہے کہ گذشتہ ماہ نمیبیا میں گر کر تباہ ہونے والے موزمبیق کی ہوائی کمپنی کے طیارے کو اس کے پائلٹ نے جان بوجھ کر زمین سے ٹکرا دیا تھا۔

موزمبیق کی سرکاری ائیر لائن کی پرواز ٹی ایم 470 دارالحکومت مپوتو سے انگولا کے لیے 29 نومبر کو روانہ ہوئی تھی تاہم یہ حادثے کا شکار ہو گئی اور اس میں موجود تمام 33 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سول ایوی ایشن کے ادارے کا کہنا ہے کہ پائلٹ نے بعض ایسی حرکات جان بوجھ کر کیں جس کی وجہ سے جہاز گر کر تباہ ہوا۔

پائلٹ کے اس اقدام کے پیچھے کیا مقاصد یا محرکات تھے یہ تو ابھی واضح نہیں ہے تاہم اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

جس وقت حادثہ ہوا اس وقت تیز بارش ہو رہی تھی اور یہ جہاز نیمبیا کے ایک پارک میں گر کر تباہ ہوا۔

تاہم سول ایوایشن کے ادارے کے سربراہ نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اس حادثے میں پائلٹ کے ‘واضح ارادے‘ دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کے پائلٹ ڈاس سانٹوس فرنینڈس نے خود کو کاکپٹ میں بند کر لیا تھا اور ساتھی پائلٹ کو اندر نہیں آنے دیا اور اسی دوران طیارہ زمین سے ٹکرا گیا۔

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ پائلٹ نے جہاز کا الٹیٹیوڈ یعنی فضا میں بلندی تین مرتبہ خود تبدیل کی اور اسے 11500 میٹر سے اچانک 180 میٹر تک لے آئے۔

انہوں نے جہاز کی رفتار میں بھی تبدیلی کی۔

اس سے قبل نیمبیا کے تفتیش کاروں نے کہا تھا کہ انہیں جہاز میں کسی مشینی خرابی کے شواہد نہیں ملے جو اس حادثے کا باعث بنتی۔

حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ نیا تھا جبکہ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کا تعلق موزمبیق، انگولہ، پرتگال، برازیل، فرانس اور چین سے تھا۔

موزمبیق کی ہواباز کمپنی کو حال ہیں میں حفاظتی نقطۃ نظر سے یورپی یونین کی فضائی حدود میں پرواز کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔