مظفر نگر: راہل گاندھی کی متاثرین سے واپسی کی اپیل

راہل گاندھی
Image caption راہل گاندھی اچانک مظفر نگر کے دورے پر گئے ہیں

کانگریس پارٹی کے نائب صدر اور ممبر پارلیمان راہل گاندھی نے اتوار کو مغربی اترپردیش کے شاملی اور مظفرنگر اضلا‏ع میں کیمپوں میں رہنے والے فسادات کے متاثرین سے ملاقات کی اور ان سے واپس اپنے گھر جانے کی اپیل کی ہے۔

راہل گاندھی نے سب سے پہلے شاملی ضلع میں امدادی کیمپوں میں رہنے والے متاثرین سے ملاقات کی اور حالات کا جائزہ لیا۔

راہل گاندھی نے متاثرین کو ہر طرح کی امداد دینے کی یقین دہانی کرائی اور ساتھ ہی یہ بھی اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے دیہاتوں میں واپس لوٹ جائیں۔

فسادات کے متاثرین نے راہل گاندھی سے کہا ہے کہ وہ واپس نہیں جاسکتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے گا‎‎ؤں میں اپنی جان کی فکر ہے۔

فسادات کے متاثرین نے راہل گاندھی سے مکان بنانے کے لیے زمین کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ سات ستمبر کو مظفر نگر میں جاٹ براداری نے ایک بڑی پنچایت کا انعقاد کیا اور اسی دن شام کو اور اگلے دن مظفر نگر، شاملی، اور باغ پت اضلا‏ع کے کئی علاقوں میں مذہبی فسادات ہوئے تھے جن میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور چالیس ہزار سے زيادہ اپنے گھر چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

مذہبی تشدد میں ایک طرف جاٹ تھے اور دوسری طرف مسلمان۔ اس علاقے میں جاٹوں کی اکثریت ہے اور مسلمان زیادہ تر ان کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ تشدد میں پچاس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے اور تقریباً پچاس ہزار لوگوں نے بھاگ کر ریلیف کیمپوں میں پناہ لی۔ پانچ عورتوں کی جانب سے اجتماعی جنسی زیادتی کے مقدمات بھی درج کیے گئے۔

Image caption مظفر نگر میں آج بھی کئی ہزار لوگ کیمپوں میں رہ رہے ہیں

گجرات میں دو ہزار دو کے مذہبی فسادات کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر پہلی مرتبہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ تمام ملزمان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

دو اراکین اسمبلی سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ایک رکن پارلیمان کو گرفتار کرنے کی کوشش جاری ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نےمرنے والوں کے لواحقین کے لیے سرکاری نوکریوں اور تمام متاثرین کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

مقامی لوگ بھی مانتے ہیں کہ متاثرین کے لیے اب اپنے گھروں کو لوٹنا آسان نہیں ہوگا ’کیونکہ دیہی علاقوں میں دشمنی آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔ سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں، سب کو معلوم ہوتا ہے کہ ان پر حملہ کرنے والے لوگ کون تھے۔ یہ غریب لوگ ہیں یہ حملہ آوروں کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے۔‘

متاثرین اضلاع کی انتظامیہ اور مرکزي حکومت متاثرین سے بار بار اپیل کررہی ہے وہ یا تو اپنے گھر واپس چلے جائیں یا پھر سرکاری امدادی کیمپوں میں چلے جائیں۔

کیمپوں میں رہنے والے متاثرین کا کہنا ہے کہ اب ان کے لیے اپنے گاؤں واپسی مشکل ہے کیونکہ فسادات کا ڈر ابھی ان کے دل سے نکلا نہیں ہے اور وہاں وہ غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

مظفر نگر ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کوشل راج نے بی بی سی کو بتایا ہے ’ہماری کوشش ہے کہ سبھی کیمپس بند ہوجائیں اور لوگ اپنے اپنے گھر واپس چلے جائیں۔ اور اگر لوگ واپس نہیں جاسکتے ہیں تو ہم انہیں پکی عمارتوں میں سرکاری کیمپوں میں رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ افسوس ناک بات ہے کہ انتظامیہ کی اپیل کے بعد بھی لوگ کھلے آسمان کے نیچے سونے کے لیے مجبور ہیں۔‘

واضح رہے کہ بھارت میں آئندہ برس کے آغاز میں عام انتخابات ہونے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے حکومت کی یہ کوشش رہے گی کہ مظفرنگر فسادات کے متاثرین جلد سے جلد واپس اپنے گھر جائیں تاکہ کیمپوں میں رہنے والے متاثرین اس کے لیے بری خبر نہ بن جائیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کا زور اس بات پر نہیں ہونا چاہیے کہ متاثرین اپنے اپنے گھر واپس بلکہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ ان کی سیکورٹی کو یقینا بنایا جائے تاکہ وہ اپنے گھر واپس جاتے ہوئے ڈرے نہ۔

اسی بارے میں