’عام آدمی‘ دہلی میں حکومت سازی کے لیے تیار

Image caption عام آدمی پارٹی نے دہلی میں اپنے حامیوں سے ایک قسم کے ’ریفرنڈم‘ کے بعد ہی حکومت سازی کا فیصلہ کیا ہے

دہلی میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے جو تعطل کی صورت حال پیدا ہوئی تھی وہ اب ختم ہو گئی ہے۔

عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں نے دہلی سے ملحقہ غازی آباد میں پیر کو اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی دہلی میں حکومت سازی کے لیے تیار ہے۔

جماعت کے ایک اہم رہنما منیش شیشودیا نے یہ بھی اعلان کیا کہ پارٹی کے روح رواں اور کنوینر اروند کیجریوال دہلی کے وزیر اعلی ہوں گے۔

واضح رہے کہ سماجی رابطوں کی سائٹ پر گذشتہ دنوں یہ باتیں سامنے آ رہی تھیں کہ کیجریوال شاید وزیراعلی کے لیے کسی دوسرے فرد کا نام پیش کریں۔

رواں ماہ آٹھ دسمبر کو آنے والے نتائج میں دہلی کی 70 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو سب سے زیادہ 32 (بشمول اکالی دل کی ایک نشست)، عام آدمی پارٹی کو 28 اور کانگریس کو 8 نشتیں ملیں جبکہ جنتا دل یونائیٹڈ کو ایک نشست ملی اور ایک رکن اسمبلی آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوا۔

اس سے قبل دہلی میں تاریخ بنانے والی عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے حکومت سازی کے سلسلے میں دہلی کے نائب گورنر نجیب جنگ سے ملاقات کی تھی اور ان سے دس دنوں کی مہلت چاہی تھی۔

اروند کیجریوال نے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر کانگریس اور بی جے پی اپنی حکومت کے دوران ہونے والے گھپلوں کی تفتیش کروانے کے لیے تیار ہیں تو وہ صلاح مشورہ کرنے کے بعد حکومت سازی کے لیے تیار ہیں۔

اس سلسلے میں انھوں نے گذشتہ دنوں عوام سے بھی رابطہ کیا کہ آیا اقلیت میں ہونے کے باوجود انہیں حکومت بنانی چاہیے یا نہیں؟

عام آدمی پارٹی نے دہلی میں اپنے حامیوں سے ایک قسم کے ’ریفرنڈم‘ کے بعد ہی حکومت سازی کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی نے کہا ہے کہ وہ نائب گورنر سے درخواست کریں گے کہ حلف برداری تاریخی مقام جنتر منتر پر کرائی جائے۔ یاد رہے کہ اروند کیجریوال نے وہیں سے اپنی پارٹی اور بدعنوانی کے خلاف تحریک شروع کی تھی۔

دہلی میں سبکدوش ہونے والی وزیر اعلی شیلا دکشت نے اس فیصلے پر عام آدمی پارٹی کو مبارکباد دی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ’عام آدمی پارٹی نے لوگوں سے ایسے وعدے کیے ہیں جنہیں پورا نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن اگر انہیں یقین ہے تو وہ انہیں پورا کر کے دکھائیں۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں نے وضاحت کی کہ عام آدمی پارٹی کو دی جانے والی حمایت ’غیر مشروط‘ نہیں ہے۔

دوسری جانب بی جے پی کے وزیراعلی کے عہدے کے نامزد امیدوار ہرش وردھن نے کہا کہ ان کے لیے ’آپ‘ کا فیصلہ نیا نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے زمین پہلے سے ہی تیار کی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی نے بدعنوانی سے لڑنے کی بڑی بڑی باتیں کی ہیں لیکن انہوں نے اقتدار کے لیے اپنے سارے وعدوں سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا: ’دہلی میں جو حکومت بننے جا رہی ہے، وہ دہلی کی عوام سے دھوکہ ہے کیونکہ عوام نے کانگریس کی خراب حکومت کو مسترد کر دیا اور اسی کے ساتھ اب کیجریوال حکومت جا رہے ہیں۔‘

بہر حال انھوں نے بھی عام آدمی پارٹی کو حکومت سازی کے فیصلے پر مبارکباد دی ہے۔

اسی بارے میں