’امریکہ سے سکیورٹی معاہدہ نہ ہوا تو مشکلات پیدا ہوں گی‘

Image caption ہمیں تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ہم شدت پسندوں کی جانب سے خطرے کا سامنا کر سکیں: افغان فوج کے سربراہ

افغانستان کی بری فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل مراد علی مراد نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر جلد دستخط نہ کیےگئے تو افغانستان کی فوج کو مشکلات کا سامنا ہو کرنا پڑے گا۔

واشنگٹن کا اصرار ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا تعین کرنے والے سکیورٹی معاہدے پر اکتیس دسمبر تک صدر حامد کرزئی دستخط کردیں۔ تاہم حامد کرزئی چاہتے ہیں کہ اس معاہدے پر دستخط اس وقت کیے جائیں جب وہ اگلے سال اپنی صدارتی مدت پوری کر لیں۔

لیکن بّری فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل مراد علی مراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی تعاون کے بغیر افغان فوج کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ نیٹو فوجیں سنہ 2014 میں افغانستان سے نکل جائیں گی۔ تاہم اس معاہدے کے ذریعے پندرہ ہزار فوجی افغانستان ہی میں تعینات رہیں گے۔ یہ فوجی افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے اور انسداد دہشت گردی کے آپریشنز میں حصہ لیں گے۔

کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد یہ سکیورٹی معاہدہ تیار کیاگیا تھا اور اس کی توثیق پچھلے ماہ ہونے والے لویہ جرگہ میں کی گئی تھی۔

جنرل مراد علی مراد کا کہنا ہے ‘بین الاقوامی فوج کے بغیر ہمیں افغان نیشنل آرمی کو مسلح کرنے اور تربیت دینے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ ہم اس موقف کو نہیں مانتے کہ فوجوں کے انخلا کے بعد ملک میں دوبارہ خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ لیکن ہمیں تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ہم شدت پسندوں کی جانب سے خطرے کا سامنا کر سکیں اور خاص طور پر انتخابات کے دوران۔ ہمیں فضائی نگرانی میں بھی مدد چاہیے۔‘

صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں بین الاقوامی فوجوں کی موجودگی کی حمایت نہیں کرتے اگر اس کا مطلب مزید بمباری اور مزید شہریوں کی ہلاکت ہے۔

حامد کرزئی پر لویہ جرگہ کی جانب سے سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے بہت دباؤ تھا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جے کارنی نے بی بی سی کو بتایا ’ہم افغانستان میں مزید پیش رفت کا انتظار نہیں کرسکتے۔ سکیورٹی معاہدہ نیک نیتی کے ساتھ تیار کیا گیا اور اس حوالے سے مذاکرات اب مزید نہیں ہوں گے۔ اس پریا تو دستخط ہو سکتے ہیں یا نہیں ہو سکتے۔ اس حوالے سے واشنگٹن اور کابل میں ہمارے نمائندوں کا پیغام بہت صاف ہے کہ معاہدے پر دستخط کرنے کا وقت آ گیا ہے۔‘

یاد رہے کہ نیٹو افواج نے اس سال کے آغاز پر پورے ملک کی سکیورٹی افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کردی تھی۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں اب بھی ستانوے ہزار فوجی موجود ہیں جن میں سے اڑسٹھ ہزار امریکی فوجی ہیں۔

نیٹو نے افغان حکومت کے ساتھ علیحدہ سے بات چیت ہفتے کے روز شروع کی ہے لیکن ان مذاکرات میں بھی امریکی معاہدے پر دستخط نہ کیے جانے کے باعث دشواری ہو رہی ہے۔