مظفرنگر:گھر اجڑنے کے بعد اب بچوں کی اموات

Image caption مظفر نگرفسادات کے تقریبا چار ماہ بعد بھی مختلف کیمپوں میں ہزاروں مسلمان رہنے پر مجبور ہیں

تشدد کی وجہ خواہ کچھ بھی ہو لیکن تشدد زدہ علاقوں کی تاریخ اگر خواتین اور بچوں کی نظر سے لکھی جائے تو وہ بے بس احساسات و جذبات اور بے زبان درد کی کہانی ہوگی۔

بہرحال بھارت کی سب زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش کے مظفر نگر کے بعض دیہات میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں بے گھر ہونے والی عورتیں اسی درد کو اپنے سینوں میں دبائے بیٹھی ہیں۔

70 برس کی عمر میں گھر چھوڑ کر آنے والی رئیسہ مظفرنگر کے ایک کیمپ میں جھگی کے باہر روتے ہوئے کہتی ہیں: ’ہمارا گھر جلا دیا، ہم یہاں باہر پڑے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی زندگي ہے۔ کیا ہم جھگی میں ہی مرجائیں گے؟‘

سیاست، مقامی انتظامیہ کی روش اور خوف کے ماحول میں گھر چھوڑ کر بھاگنے والے بہت سے خانوادوں نے کیمپوں میں پناہ تو لے لی لیکن زندگی بچانے کی اس جنگ میں بعض مائیں اپنے جگر گوشوں کو کھو چکی ہیں۔

مظفرنگر کے لوئی کیمپ میں ہماری ملاقات سعیدہ سے ہوئی۔ وہ آٹھ اگست کی رات جب بدحواسی کے عالم میں گھر سے نكليں تو سات ماہ کی حاملہ تھیں۔

سعیدہ کہتی ہیں: ’ہم كھرڑ کے رہنے والے ہیں۔جب قتل عام شروع ہوا تو ہم اپنا گھربار چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ یہیں کیمپ میں آ کر میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ تین دن بعد اسے ٹھنڈ لگ گئی۔ دوا کی گئی لیکن وہ بچ نہ سکا۔‘

Image caption ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے کشادہ مکانوں کو چھوڑ کر ٹنٹ میں رہنے پر مجبور ہیں

لوئی کیمپ میں سردی سے صرف بچوں کی ہی نہیں معمر لوگوں گو کی بھی موت ہوئی ہے۔ تاہم مقامی ضلع شاملی میں قائم ملك پور کیمپ میں اطلاعات کے مطابق 30 سے زیادہ بچوں کی جان چلی گئی۔

افسانہ نام کی ایک خاتون کیمپ میں اپنی جھگی کے باہر بیٹھی ہیں۔ آنکھوں میں پانی ہے اور دل کا غبار پھٹ كر باہر نکلا چاہتا ہے۔

افسانہ کہتی ہیں: ’میرا بچہ چلا گیا۔ ہمارا گھر ٹوٹ چکا ہے۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، اب واپس گاؤں جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘

بچوں کی موت کے بارے میں سوال پر مظفرنگر کے ضلع مجسٹریٹ ایم کیلاش راج شرما کہتے ہیں: ’ہم نے لوئی کیمپ کی ہر جھگی کا سروے کرایا تھا۔ وہاں 76 حاملہ خواتین تھیں۔ ہم نے ہر خاتون کو سي جی ایچ ایس سکیم کے تحت قائم قریبی ہسپتال میں جانچ کرانے کے لیے کہا لیکن ان سب نے صاف انکار کر دیا۔‘

Image caption موسم سرما کی آمد سے کھلے آسمان کے نیچے رہنے پر مجبور ان پناہ گزینوں کے حالات ناگفتہ بہ ہیں

انھوں نے بتایا: ’سرکاری ہسپتال میں جانے کی وہاں بہت زیادہ مخالفت ہے ایسے میں اس کا حل کیا ہو سکتا ہے؟ ہم نے کیمپوں میں دوائیں پہنچانے کا بھی پورا بندوبست کر دیا ہے۔‘

ملك پور کیمپ کے منتظم گل شان احمد ایک سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں: ’کیا ان لوگوں کو اس لیے مرنے دیا جانا چاہیے کہ یہ غریب ہیں؟ کیا بھارت میں غریب اور مسلمان کی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟‘

اگست کے اخیر میں مظفر نگر کے کووال گاؤں میں تین نوجوانوں کے قتل کے بعد پیدا شدہ کشیدگی نے آس پاس کے کئی گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ کشیدگی نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کر لی اور تصادم میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔

تقریباً 50 ہزار لوگوں کو دہشت میں اپنا گھر چھوڑ کر کیمپوں میں پناہ لینی پڑی اور یہ سارے کے سارے پناہ گزین مسلمان ہیں۔

غیر سرکاری تنظیموں اور مقامی لوگوں نے مدد کی لیکن خوف کے عالم میں گھر بار چھوڑنے والوں کے واپس نہ لوٹنے کے فیصلے سے صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں