تیسری عالمی جنگ پارکنگ پر ہوگی!

Image caption دیویانی کھوبراگڑے پر اپنی ملازمہ سنگیتا رچرڈز کو پوری تنخواہ نہ دینے اور ویزا فراڈ کا الزام ہے

آپ امریکہ کے ساتھ ہوں یا خلاف، اس کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیتے ہوں یا اسے سبق سکھانے کے لیے دنیا بھر میں امریکی فوجوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہوں، انسانی حقوق کے علم بردار ہوں یا خود جابر حکمراں، ہیومن ٹریفکنگ کرتے ہوں یا صرف بورنگ سفارتکاری، آپ کو اب تک یہ تو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ امریکہ نہ اپنے دوستوں کو بخشتا ہے اور نہ دشمنوں کو!

اس لیے نہیں کہ اسے دونوں میں فرق کرنا نہیں آتا، بس اس لیے کہ دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت کے لیے قانون کی بالادستی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ چاہے اس کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ چاہیں تو جرمنی کی چانسلر آنگیلا مرکل سے پوچھ لیجیے، وہ امریکہ کے قریب ترین اتحادیوں کی محدود فہرست میں شامل ہیں لیکن پھر بھی امریکی جاسوس احتیاطاً خفیہ طور پر ان کی بات چیت سنتے رہتے ہیں کہ کہیں جانے انجانے میں وہ خلاف قانون کچھ نہ کر بیٹھیں۔

لیکن امریکہ میں جب سے ایک ہندوستانی سفارتکار کو گرفتار کیا گیا ہے، سوا ارب لوگ نہ معلوم کیوں چراغ پہ ہیں۔ خاتون سفارتکار دیویانی کھوبراگڑے پر اپنی ملازمہ سنگیتا رچرڈز کو پوری تنخواہ نہ دینے اور ویزا فراڈ کا الزام ہے۔ آپ شاید کہیں گے کہ یہ تو کوئی جرم نہ ہوا، یہ تو سب کرتے ہیں!

اور آپ شاید یہ بھی کہیں گے کہ امریکہ دنیا بھر میں جو بمباری کرتا پھرتا ہے، اس کا کیا؟ کیا اس کی فوجیں ویزا لیکر جاتی ہیں، کیا ڈرون ویزا لیکر آتے ہیں، کیا ان سے داغے جانے والے ہر میزائل پر امیگریشن کی مہر ہوتی ہے؟ کیا ان بے گناہوں کے انسانی حقوق نہیں ہوتے جو امریکہ کی فوجی کارروائیوں میں مارے جاتے ہیں؟ اگر آپ کے ذہن میں یہ سوال آئے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ آپ امریکہ کو پسند نہ کرنے والوں میں شامل ہوں۔

لیکن کیا آپ نے یہ بھی سوچا ہے کہ دیویانی کو گرفتار کرکے امریکی حکومت نے انہیں ایک سلیبرٹی بنا دیا ہے۔اگر یہ ویزا فراڈ کا کیس نہ ہوتا تو عام آدمی پارٹی امریکہ کے صدارتی انتخاب کے لیے انہیں اپنا امیدوار بنا سکتی تھی کیونکہ دلی کے الیکشن میں کامیابی کے بعد پارٹی اب اپنے پر پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن عام آدمی پارٹی کو بھی کسی قسم کا فراڈ برداشت نہیں ہے۔(امریکہ اور عام آدمی پارٹی میں کم سے کم یہ مماثلت ضرور ہے) بہرحال دیویانی اگر الیکشن نہ بھی لڑنا چاہیں تو سفارتکاری چھوڑ کر امریکی ویزا کے لیے مشاورتی فرم تو کھول ہی سکتی ہیں!

Image caption بھارتی حکومت نے دہلی میں امریکی سفارت خانے کے اردگرد پارکنگ کی(غیر اعلانیہ) اجازت ختم کر دی ہے

اور امریکی حکومت ہندوستان سے بے روزگاری کم کرنے میں بھی مدد کر رہی ہے۔ دیویانی کو گرفتار کرنے سے پہلے اس نےسنگیتا کے بیٹے اور شوہر دونوں کو خاموشی سے ہمیشہ کے لیے امریکہ بلا لیا ہے۔

اب کسی کی نیک نیتی پر شبہ کرنا ہی آپ کی فطرت ہو تو اس کا کوئی علاج نہیں۔

اس پورے تنازع کا ایک اور مثبت پہلو بھی ہے۔ دنیا کو یہ بھی پتہ چلا کہ امریکہ کو کنٹرول کرنا ناممکن نہیں ہے اور انجام کی پرواہ کیے بغیر راستہ ہندوستان نے دکھایا ہے۔

حکومت نے دیویانی کو بچانے کے لیے وہ کر ڈالا جسے سوچ کر شاید اسامہ بن لادن کی روح بھی کانپ جاتی۔ جب سخت بیانی سے کام نہیں چلا تو حکومت نے دہلی میں امریکی سفارت خانے کے اردگرد پارکنگ کی(غیر اعلانیہ) اجازت ختم کر دی اور چند ہی گھنٹوں میں امریکہ نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے!

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے فون اٹھایا اور دیویانی کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر افسوس کا اظہار کرڈالا۔ اب دونوں ملک تنازع کو کچھ اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سانپ بھی مرجائے اور پارکنگ بھی بچ جائے۔

تیسری عالمی جنگ تیل یا پانی پر نہیں پارکنگ پر لڑی جائے گی!

اسی بارے میں