بھارت: کرسمس پر ایک عورت دو بار ریپ

Image caption گذشتہ برس دہلی میں ایک بس میں طالبہ کے ریپ کے بعد ملک بھر میں شدید مظاہرے ہوئے تھے

بھارت میں پولیس نے کہا ہے کہ کرسمس کے موقعے پر ایک 21 سالہ عورت کو دو الگ الگ مردوں کے گروہوں نے ریپ کیا ہے۔ اس نے اس سلسلے میں دس افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ یہ خاتون پانڈیچری میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جا رہی تھی کہ انھیں تین افراد نے اغوا کر لیا اور ان میں سے ایک نے انھیں ریپ کیا۔

اس کے بعد مردوں کے ایک اور ٹولے نے انھیں گھیر لیا اور گینگ ریپ کیا۔

ریپ کے خلاف مظاہرے، لیکن کیا بدلا؟

ریپ نے پورے ہندوستان کو جھنجھوڑ دیا

بھارتی خواتین تشدد کے خلاف آواز اٹھانے لگیں

دہلی گینگ ریپ: چار مجرموں کو موت کی سزا

پولیس نے کہا ہے کہ آخری ملزم کو جمعے کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس نے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔

ملزمان کا 15 دن کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے، لیکن ان پر باضابطہ فردِ جرم عائد ہونا ابھی باقی ہے۔ اب تک کسی ملزم نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کے بارے میں عوامی طور پر کچھ نہیں بتایا۔

پانڈیچری کی سینیئر پولیس سپرنٹنڈنٹ مونیکا بھردواج نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بہت بھونڈا اور وحشیانہ واقعہ ہے۔

ریپ کا یہ تازہ واقعہ اس طالبہ کی پہلی برسی سے چند ہی دن پہلے پیش آیا ہے جسے گذشتہ برس دہلی میں ایک بس کے اندر ریپ کیا گیا تھا اور جس کے خلاف ملک بھر میں شدید مظاہرے ہوئے تھے۔ اس کے باعث بھارت میں جنسی تشدد کا قانون تبدیل کر دیا گیا تھا۔

یہ واقعہ پانڈیچری کے ساحلی شہر کریکیل میں پیش آیا۔ جب اس عورت کے دوست اسے تھوڑی دیر کے لیے تنہا چھوڑ کر ایک گھر کے اندر چلے گئے تو تین مردوں نے انھیں اغوا کر لیا۔

Image caption دہلی ریپ کے خلاف مظاہرین نے موم بتیاں جلائیں

ایس ایس پی مونیکا بھردواج نے بی بی سی کو بتایا: ’ان تین میں سے ایک مرد نے اس عورت کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔‘ اس کے بعد عورت نے اپنے ساتھیوں کو بلایا جو اس کی مدد کے لیے آ گئے:

’جب وہ اندر جا رہے تھے تو ان پر مردوں کے اور گروپ نے دھاوا بول دیا، جنھوں نے زیادتی کا نشانہ بننے والی عورت کو پکڑ لیا اور انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد انھیں چھ مرتبہ ریپ کیا گیا۔‘

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون حملہ آوروں کو نہیں جانتیں اور دونوں حملوں کا بظاہر آپس میں تعلق نہیں ہے۔

دو پولیس اہل کاروں کو بھی معطل کر دیا گیا ہے جنھوں نے متاثرہ خاتون کی شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

عورت کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کے زخموں کا علاج کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی حالت اب بہتر ہے۔