بھارت: مغربی بنگال میں دھماکے میں پانچ افراد ہلاک

Image caption دھماکے کے بعد پولیس نے پڑوسی ریاست آسام سرحد سے ملحق علاقوں میں چھاپے اور تلاشی کی کارروائی شروع کر دی ہے

بھارتی ریاست مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی شہر میں ایک سائیکل پر نصب بم دھماکے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور تقریباًً ایک درجن زخمی ہو گئے ہیں۔

مغربی بنگال پولیس کے شمالی بنگال انسپکٹر جنرل ششی كانت پجاری کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ساڑھے سات بجے جلپائی گوڑی شہر کے بہارپور علاقے میں ایک پل پر ایک سائیکل پر نصب بم سے دھماکہ ہوا۔

دھماکے کی وجہ سے موقع پر ہی چار افراد کی موت ہو گئی جبکہ تقریباً ایک درجن افراد کو زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا۔ بعد میں زخمیوں میں سے ایک کی ہسپتال میں ہی موت ہو گئی۔

کولکتہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار امیتابھ بھٹّاسالي کے مطابق دھماکے کے وقت جائے وقوع پر کافی بھیڑ تھی۔ پولیس نے دھماکے کے متعلق كامتاپور لبریشن آرگنائزیشن (کے ایل او) پر شبہہ ظاہر کیا ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس نے پڑوسی ریاست آسام سرحد سے ملحق علاقوں میں چھاپے اور تلاشی کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ششی کانت پجاری نے کہا: ’ہم ابھی اس بات کا تعین نہیں کر پائے ہیں کہ آیا یہ شدت پسند حملہ تھا یا پھر سائیکل پر رکھا دھماکہ خیز مواد از خود پھٹ گیا۔‘

Image caption دو سال قبل اقتدار میں آنے والی ممتا بنرجی کی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا

جلپائي گوڑي کے ایس پی امیت جوالگي کے مطابق منگل کو کے ایل او کے بانی کی برسی تھی جبکہ 28 دسمبر کو اس تنظیم کا یوم تاسیس ہے۔ پولیس اس دھماکے میں کے ایل او کے شامل ہونے کی تحقیق کر رہی ہے۔

ابھی تک مہلوکین کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس دھماکے میں مرنےوالوں میں سائکل سوار بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

بھٹّاسالي کے مطابق كے ایل او پر شبہہ اس لیے ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی کئی بار وہ سائیکل پر ٹائمر کی مدد سے بم دھماکے کر چکے ہیں۔ حال ہی میں علی پور میں سائیکل پر ایسا ہی بم رکھا گیا تھا جسے ناکارہ بناتے وقت دستے کا ایک جوان مارا گیا تھا۔

خفیہ محکمہ کے پاس كے ایل او کے بانی کی برسی کے موقعے سے دھماکے کی رپورٹیں تھیں۔

کے ایل او علاقے میں علیحدہ كامتاپور ریاست کے لیے سرگرم ہے۔

بھٹّاسالی کے مطابق تنظیم کے زیادہ تر ٹاپ لیڈرز کی گرفتاری سے ان کی تحریک کمزور ہو چکی تھی لیکن دو سال قبل اقتدار میں آنے والی ممتا بنرجی کی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

اسی وعدے کو نبھاتے ہوئے ممتا حکومت نے كے ایل او کے کئی اعلیٰ رہنماؤں کو رہا بھی کیا تھا لیکن ممتا بنرجی حکومت نے بحالی پیکج کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا جس سے کے ایل او میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں