’بھارت امریکیوں کی ٹیکس ادائیگی کا جائزہ لے گا‘

Image caption دیویانی کھوبراگڑے کو پچھلے جمعے کو مینہیٹن کی عدالت میں پیش کیاگیا اور دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر کے مچلکے پر رہا کر دیا گیا تھا

بھارتی حکومت ملک کے سکولوں میں کام کرنے والے امریکی سفارتکاروں کے اہل خانہ کے ٹیکس کی ادائیگی کا جائزہ لے رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے کہ جب اسی مہینے امریکہ میں ایک بھارتی خاتون سفارتکار دیوانی کھوبراگڑے کو اپنی خادمہ کو مبینہ طور پر کم تنخواہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

دیویانی کھوبراگڑے کو پچھلے جمعے کو مینہیٹن کی عدالت میں پیش کیاگیا اور دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر کے مچلکے پر رہا کر دیا گیا تھا۔ دیویانی کھوبراگڑے نے اپنی ملازمہ سنگیتا رچرڈ پر بلیک میل کا الزام لگایا ہے۔

دیوانی کھوبراگڑے کی گرفتاری پر بھارتی حکومت کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی جانب سے ایک نامعلوم بھارتی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اب بھارتی حکومت امریکی سفارتکاروں کے خاوند اور بیویوں جانب سے ملازمت کے دوران ٹیکس کی ادائیگی سے متعلق کی گئی خلاف ورزیوں کو نظر اندا نہیں کرے گی۔

اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے پہلے ہی امریکی سفارتکار اور ان کے اہل خانے کو سفارتکار ہونے کے ناطے ملنے والی مرعات واپس لے لی ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’اب بھارت میں تعینات امریکی سفارتکاروں کےگھروالوں قانون سے استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا اور اگر انہوں نے پارکنگ کے قانون کی بھی خلاف ورزی کی ہے تو انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔‘

دہلی میں امریکی سفارتخانے نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گزشتہ ہفتے نیشنل سکیورٹی کے مشیر شیوشنکر مینن سے فون پر بات چیت کی تھی اور بھارتی سفارت کار کے ساتھ سلوک پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

لیکن امریکہ نے یہ بھی کہنا تھا کہ وہ دیوانی کھوبراگڑے کے خلاف الزامات واپس نہیں لے گا۔

واضح رہے کہ دیویانی کھوبراگڑے کو گرفتار کرتے وقت ہتھکڑی پہنائی گئی تھی اور ان کی برہنہ تلاشی بھی لی گئی تھی لیکن اگر وہ ان الزمات کی مرتکب پائي جاتی ہیں تو انھیں 15 سال ‎ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

بھارتی حکومت نے محترمہ کھوبراگڑے کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کا الزام لگاتے ہوئے اسے ایک قابل مذمت واقعہ قرار دیا ہے اور ایوان بالا میں امریکہ سے معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بھارت نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور منگل کو نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے کے حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام قونصلروں کے شناختی کارڈ وزارتِ خارجہ میں جمع کروائیں۔

سفارتخانے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمام سفارتکاروں ، قونصلروں اور سفارتخانے میں کام کرنے والے بھارتی ملازمین کی تنخواہوں کی تفصیلات پیش کرے ۔

ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ امریکی سکول میں تعلیم دینے والے اساتذہ کے ویزے کی نوعیت اور سفارتکاروں کے گھریلو ملازمین کی تنخواہوں کی تفصیل بھی فراہم کریں۔

اس کے علاوہ امریکی سفارت کاروں کو بھارتی ہوائی اڈوں پر دی جانے والی خصوصی مراعات کے پاس بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔

حکومت نے دہلی پولیس کو امریکی سفارت خانے اور امریکی سکول پر لگائی گئی اضافی حفاظتی رکاوٹوں کو بھی ہٹا دیا ہے۔

اسی بارے میں