خود اوباما کو چل کر آنا ہوگا!

یہ دو ہزار تیرہ کی آخری ڈائری ہے، سال نو کے لیے نیک خواہشات، لیکن افسوس کہ امریکہ کے صدر براک اوباما کے لیے خبر اچھی نہیں ہے!

وقت کیسے بدل جاتا ہے۔

صدر اوباما کو شاید آپ دنیا کا سب سے طاقتور انسان سمجھتے ہوں، وہ شاید ہوں بھی، ان کی فوجوں نے عراق اور افغانستان کو اگر فتح نہیں کیا تو وہاں کم سے کم یہ تو ضرور ثابت کیا کہ امریکہ سے بے وجہ بحث میں پڑنا زیادہ سمجھداری کی بات نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر آج کل اوباما کی راتوں کی نیند اڑی ہوئی ہو تو کوئی حیرت کی بات نہیں۔

اور مسئلے کی جڑ پھر وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی ہیں۔ امریکہ انہیں گجرات کے مذہبی فسادات کے لیے ذمہ دار مانتا ہے اور اب تک انہیں ویزا دینے سے انکار کرتا رہا ہے۔ لیکن اب نریندر مودی کی ایک ریلی میں بی جے پی کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے اوباما کو یہ ہوش ربا وارننگ جاری کردی ہے کہ ’اوباما کو خود مودی کا ویزا لے کر دہلی آنا ہوگا ورنہ ان کا ویزا بھی منسوخ کر دیا جائے گا!‘

صدر اوباما کے سامنے اب راستے محدود ہیں۔ یا تو وہ مودی کا ویزا پہنچائیں، یا اس بات پر اکتفا کر لیں کہ صدر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد ذریعہ معاش کی تلاش میں انہیں اگر امریکہ چھوڑنا پڑا تو ہندوستان کے دروازے ان پر ہمیشہ کے لیے بند ہوچکے ہوں گے۔ کیونکہ ہوسکتا ہےکہ اس وقت تک مودی وزیر اعظم بن چکے ہوں اور ہو سکتا ہے کہ ہندوستان ایک مرتبہ پھر سونے کی چڑیا بن چکا ہو، جیسا کہ مودی وعدہ کر رہے ہیں۔

یا پھر اوباما عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجری وال سے رابطہ کر سکتے ہیں کیونکہ کیجری وال کی پارٹی نے نریندر مودی کو ایک ہوش ربا چیلنج دے ڈالا ہے جس سے ہوسکتا ہے کہ مسٹر مودی کی نیند بھی اڑی ہوئی ہو۔

عام آدمی پارٹی کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی کے انتخابی حلقے امیٹھی سے اپنے سینیئر رہنما کمار وشواس کو میدان میں اتارنے کی تیاری میں ہے اور کمار وشواس نے مودی سے کہا ہے کہ وہ ’شہزادے‘ راہول پر حملے کرنے سے تو نہیں چوکتے لیکن اگر وہ واقعی گاندھی خاندان کی ’سیاسی سلطنت‘ کا سلسلہ ختم کرنا چاہتے ہیں تو امیٹھی سے آکر الیکشن لڑیں!

خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو!

مودی اکثر راہول کو للکارتے ہیں، لیکن وہ اگر یہ دعوت قبول کرلیں تو پھر تینوں پارٹیوں کے جرنیل امیٹھی میں ہی یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری کون سنبھالے گا! اگر مودی ہار جاتے ہیں تو اوباما چین کی نیند سو سکیں گے، اگر راہول ہار جاتے ہیں تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ کانگریس پارٹی پہلے ہی غفلت کی نیند سو رہی ہے!

لیکن سب ہی کسی پریشانی کی وجہ سے نہیں جاگ رہے۔ کچھ لوگ نئے سال کا جشن منا رہے ہیں۔ ان میں اترپردیش کے نوجوان وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو اور ان کے والد ملائم سنگھ بھی شامل ہیں۔ ان کے آبائی گاؤں میں سرکاری خرچ پر ہر سال کی طرح ایک شاندار میلہ چل رہا ہے جس میں حسین لڑکیاں دلفریب رقص پیش کر رہی ہیں۔

اکھیلیش بھی بہت شاطر سیاستدان ہیں۔ انہوں نے ایک ٹی وی رپورٹر سے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ آپ میلے کی رپورٹنگ کرنے نہیں آئے ہیں، آپ سکرین پر ایک طرف رقص دکھائیں گے اور دوسری طرف مظفر نگر کے ریلیف کیمپوں کی تصاویر (جہاں لوگ کڑاکے کی سردی میں کھلے آسمان کے نیچے جاگ کر راتیں گزار رہے ہیں)!

نیند رقص سے اڑے یا سردی سے کیا فرق پڑتا ہے، جاگ تو سب رہے ہیں! اور ویسے بھی سردی سے بچے کیا صرف ریلیف کیمپوں میں مرتے ہیں؟

عہد رفتہ کے فلم سٹار راج کپور نےٹھیک ہی کہا تھا: دی شو مسٹ گو آن!

اسی بارے میں