امریکہ کا بھارت سے معافی کا ارادہ نہیں:امریکی ذرائع

Image caption امریکہ میں بھارتی سفارت کار کی ملازمہ کے حق میں مظاہرے کیے گئے ہیں

بھارتی میڈیا نے امریکی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکہ نہ تو بھارتی سفارت کار دیونا کھوبراگڑے کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے اور نہ ہی وہ بھارت سے معافی مانگے گا۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق استغاثہ 13 جنوری کو چارچ شیٹ پیش کرنے کی آخری تاریخ سے پہلے مقدمے سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کر رہا ہے۔

استغاثہ کو 13 جنوری تک بھارتی سفارت کار کے خلاف چارج شیٹ پیش کرنی ہے۔

بھارتی سفارت کار دیویانی كھوبراگڑے کو ان کی نوکرانی سنگیتا رچرڈز کی طرف سے شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ کو قانون کے مطابق اجرت ادا نہیں کر رہی تھیں۔

نیویارک کی عدالت میں پیش کیے گئی دستاویزات کے تحت بھارتی سفارت کار نے اپنی ملازمہ کی ویزا درخواست میں لکھا تھا کہ انھیں امریکہ میں ساڑھے چار ہزار امریکی ڈالر کی تنخواہ دی جائے گی جبکہ انھیں صرف 573 ڈالر دیے جا رہے تھے۔ یہ تنخواہ امریکہ میں کم سے کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

بھارتی سفارت کار نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اس وقت ضمانت پر ہیں۔

بھارت اپنی خاتون سفارت کار کو گرفتاری کے بعد ہتھکڑی لگانے، ان کی برہنہ تلاشی اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اگر بھارتی سفارت کار پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں ویزا دستاویزات میں فراڈ کے جرم میں دس سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے جب کہ جھوٹ بولنے پر ان کو مزید پانچ سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا تھا کہ امریکہ میں بھارتی سفارت کار ’دیویانی كھوبراگڑے کو بحفاظت ملک واپس لانے کی ذمہ داری میری ہے اور میں انھیں واپس لا کر دكھاؤں گا۔‘

اسی بارے میں