افغان عوام کے لیے 2014 محض نیا سال نہیں

Image caption نئے سال کے موقعے پر جو مثبت پیغامات ٹوئٹر پر آئے وہ جوان پڑھے لکھے افغانیوں کی طرف سے تھے

نیا سال شروع ہو گیا ہے اور سنہ 2014 افغانیوں کے لیے محض ایک نیا سال نہیں بلکہ بہت اہم سال ہے۔

نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نئے سال اور نئی امیدوں کے ہیش ٹیگز آنے شروع ہو گئے۔

افغانستان اینیلسٹس نیٹ ورک (Afghanistan Analysts Network) کے برہان عثمان نے ٹوئٹ کیا ’آؤ 2014 کی آمد کا جشن منائیں بغیر کسی خوف و خطر کے۔‘

وہ ملک جہاں ہر آنے والے سال کو گذشتہ سال سے زیادہ نازک کہا جاتا ہے وہاں یہ سال واقعتاً بہت اہم ہے کیونکہ اس سال افغانستان میں موجود غیر ملکی فوجوں کا انخلا ہونا ہے۔

صرف فوجوں کا انخلا ہی نہیں ہے بلکہ اس سال صدارتی انتخابات میں صدر حامد کرزئی منتخب ہونے والے صدر کو اقتدار سونپیں گے۔ یہ پرامن انتقالِ اقتدار ایسے ملک میں ہوگا جہاں اس سے قبل انتقالِ اقتدار میدانِ جنگ میں ہوتی تھی نہ کہ ووٹنگ کے ذریعے۔

نئے سال کے موقعے پر جو مثبت پیغامات ٹوئٹر پر آئے وہ جوان، پڑھے لکھے افغانیوں کی طرف سے تھے۔

ٹوئٹر پر موجود ایک جوان افغان سے میں نے اس پرامید پیغامات کی وجہ پوچھی۔ ڈاکٹر فاضل فضلی نے خانہ جنگی، مالی بدحالی اور انتخابی دھاندلی کی پیشین گوئی کے پیش نظر کہا ’میرے مطابق افغان عوام پر میڈیا نے پچھلے بارہ ماہ میں افراتفری اور غیر یقینی صورتحال کی خبروں کی یلغار کی ہوئی تھی۔ میں چونکہ ڈاکٹر ہوں اس لیے میرا مزاح بھی طب ہی کے مطابق ہوتا ہے اور اسی لیے اس کو میں 2014 سنڈروم کہتا ہوں۔‘

ڈاکٹر فاضلی نے مزید کہا ’افغان عوام منفیت کو ہضم نہیں کر پاتے اور اس کے باعث حقائق بھی متاثر ہوتے ہیں۔‘

افغانستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کسی صورتحال کے بارے میں نقطۂ نظر کو بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہوتی ہے جتنی کہ زمینی حقائق کو۔

سنہ 1989 کی سردیوں میں جب روسی فوج افغانستان سے واپس جا رہی تھی تو عوام بہت تذبذب میں تھی۔

برف سے ڈھکی کابل کی سڑکوں پر لوگ استفسار کر رہے تھے کہ روسی فوج کے بعد مجاہدین پہاڑوں سے کابل کی طرف پیش قدمی کریں گے یا نہیں۔ لیکن افغانستان کے باہر سب ایک ہی پیش گوئی کر رہے تھے کہ روسی فوج کے جانے کے بعد صدر نجیب اللہ کی حکومت جلد ہی ختم ہوجائے گی۔

مغربی سفارتکاروں کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد میں کابل ہی میں رہا اور لوگ مجھ سے پوچھا کرتے تھے ’آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا ہوگا؟‘

یہ درست ہے کہ صدر نجیب اللہ کی حکومت ختم ہو گئی لیکن چند سالوں بعد اس وقت جب روس نے مالی اور سیاسی امداد بند کردی۔

افغانستان اب بہت مختلف ملک ہے لیکن ابھی بھی منفی پیشین گوئی سے یہ عوام بہت فکرمند ہو جاتی ہے۔ اور ٹی وی اور سوشل میڈیا کے باعث منفی پیشین گوئی کئی درجے مزید بڑھ جاتی ہے۔

اسی بارے میں