افغانستان: سکیورٹی معاہدے سے زیادہ صدارتی انتخاب اور معیشت اہم

Image caption سچ یہ ہے کہ فوجی منتقلی کو حل کرنا دیگر ایشوز کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے

امریکہ اور افغانستان کے درمیان شدید بحث جاری ہے کہ کب اور کن شرائط پر افغانستان اس معاہدے پر دستخط کریں گے جس کے تحت امریکہ کو 2014 کے بعد بھی افغانستان میں فوجیں تعینات کرنے کا حق مل جائے گا۔

لیکن اس بحث کے باعث بہت سے دیگر اہم ایشوز کو نظر انداز ہو رہے ہیں جن سے افغانستان حقیقتاً مستحکم ہو سکے گا۔

کسی کو یہ نہیں معلوم کہ 2014 کے بعد افغانستان میں کیا ہو گا۔ اس حوالے سے اندازے بے شمار ہیں اور کچھ حالات جو پیش کیے جارہے ہیں وہ عقل سے بالاتر ہیں اور افغانستان کے حوالے سے جہالت امریکی دفترِ خارجہ سے خوست کے پہاڑوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

چونکہ یہ فوجی منتقلی ہے اس لیےواشنگٹن اور کابل زیادہ وقت کتنی امریکی فوج افغانستان میں تعینات رہے گی اور کن شرائط پر رہے گی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

لیکن سچ یہ ہے کہ فوجی منتقلی کو حل کرنا دیگر ایشوز کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔

اس وقت افغانستان میں 87000 غیر ملکی فوجیوں تعینات ہیں جن کی تعداد 2013 میں ڈیڑھ لاکھ تھی۔ 2014 کے بہار تک فوجوں کی یہ تعداد مزید کم ہو کر 40000 رہ جائے گی جبکہ رواس سال کے آخر تک کوئی فوجی نہیں رہے گا۔ ماسوائے چند امریکی فوجیوں کے جو تربیتی کردار ادا کریں گے۔

اس سال کا افغانستان کے لیے سب سے اہم لمحہ اقتدار کی منتقلی ہو گا جب صدارتی انتخابات ہوں گے۔ اس سے معلوم چلے گا کہ صدارتی انتخابات کتنے صاف اور شفاف ہیں اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت عوام کو قابل قبول ہو گی یا نہیں۔

صدارتی انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے نہایت احتیاط سے کام لینا ہو گا کیونکہ طالبان کے حملوں اور امریکی فوج کی تعیناتی پر نہیں بلکہ انتخابات پر افغانستان کے استحکام کا دارومدار ہے۔

صدر حامد کرزئی، جو دوبارہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے، گیارہ میں سے ایسے امیدوار کا انتخاب کریں گے جو ان کو پسند ہے۔ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ اگلا صدر وہ آئے جو ان کو اور ان کے خاندان کو بدعنوانی کے کے الزامات سے بچا سکے۔

حامد کرزئی ممکنہ طور پر یا تو اپنے بھائی قیوم کرزئی کی حمایت کریں گا یا پھر وزیر خارجہ زلمے رسول کی۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ 2009 کے صدارتی انتخابات اتنی میں دھاندلی کے اتنے الزامات سامنے آئے کہ اگر اس بار بھی نتائج بھی توقع پر پورے نہ اترے تو ان انتخابات کی بھی ساکھ نہیں بچے گی۔

اگر ان انتخابات کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان اٹھا تو پھر افغانستان میں استحکام کی تمام توقعات ختم ہو جائیں گی۔

ان انتخابات میں صدر حامد کرزئی لسانی کارڈ کا استعمال کیسے کرتے ہیں وہ دیکھنا ضروری ہے۔

سنہ 2009 کے انتخابات میں حمد کرزئی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ملک کے جنوب اور مشرق میں پشتون آبادی میں اکثریت حاصل کی۔ لیکن یہ وہ علاقے تھے جہاں پر دھاندلی کی سب سے زیادہ الزامات سامنے آئے۔

پشتون آبادی کے علاوہ ملک کے شاملی اور مغربی حصوں میں تاجک، ازبک اور ھزارہ آبادی نے ان انتخابات کو مسترد کردیا اور اپنی جیت کا اعلان کیا۔ لیکن پھر امریکہ کی مداخلت پر عبداللہ عبداللہ نے انتخابات کے دوسرے راؤنڈ میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا۔

اگر ایسا ہی اپریل 2014 میں ہوتا ہے تو اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔اس بار غیر پشتون آبادی کو اگر محسوس ہوا کہ ان کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے تو وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اس بار مغربی ممالک کے پاس کوئی ہتھکنڈا نہیں ہو گا کہ وہ کسی ایک فریق پر دباؤ ڈال سکیں اور ممکنہ طور پر وہ امداد کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کریں گے۔

انتخابی عمل پر مغربی تنظیموں، نیٹو، اقوام متحدہ اور امریکہ کا جو تھوڑا سا کنٹرول تھا وہ بھی پچھلے دو سالوں میں افغان حکومت کو دے دیا گیا ہے جو ایک بہت بڑی غلطی ہے۔

دوسری جانب معاشی منتقلی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے 2001 سے اب تک ایک سو بلین ڈالر سماجی سروسز کے لیے خرچ کیے جا چکے ہیں لیکن وہ افغانستان میں مقامی معیشت کی بحالی میں ناکام رہے ہیں جس سے عوام کو نوکریاں ملیں اور ریاست کے لیے آمدن پیدا کی جاسکے۔

پڑھے لکھے اور جمہوریت کے حامی ہزاروں نوجوان جو غیر ملکی فوجوں کے لیے کام کرتے تھے وہ بےروزگار ہو جائیں گے۔ ان میں سے زیادہ تر افغانستان سے نکلنے کی کوشش کریں گے اور دوسرے ممالک میں غیر قانونی تارکین وطن بن جائیں گے۔

واشنگٹن اور کابل کی جانب سے معیشت پر غور نہیں کیا جا رہا اور اس افراتفری کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی جو مغربی ممالک کی افواج کے انخلا اور امداد میں کمیں کے نتیجے میں پیدا ہوگی۔

امریکہ اور نیٹو نے افغان فوج کے لیے آٹھ بلین ڈالر سالانہ امداد کا وعدہ کیا ہے لیکن افغان معیشت ایک سال ہی میں ختم ہو جائے گی۔ اور نہ تو امریکہ اور نہ ہی یورپی ممالک فوجی امداد کے علاوہ کسی قسم کی کوئی اور امداد دینے کو تیار ہیں خاص طور پر ایک بار پھر خانہ جنگی چھڑ جانے کی صورت میں۔

واشنگٹن اور کابل علاقائی روابط کو بھت اتنی اہمیت نہیں دے رہے۔ افغانستان کے ہمسائے ممالک جیسے ایران، پاکستان، چین اور وسط ایشیا ریاستوں کے علاوہ بھارت، روس اور سعودی عرب کو افغانستان میں مداخلت نہ کرنے کے معاہدے پر متقفق کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔اور نہ ہی اپنے اپنے پسندیدہ گروہوں کی مالی امداد نہ کرنے اور ان کو مسلح نہ کرنے پر بھی متفق کرنا چاہیے۔

یہ سب اہم پہلو ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ طالبان کے ساتھ مفاہمت کی ضرورت ہے اور ان کو سیاسی منظرنامے پر لانے کی ضرورت ہے نہ کہ اس سے نکالنے کی۔

پچھلے سے طالبان کے ساتھ مفاہمتی عمل کو شروع کیا گیا لیکن اب وہ عمل رک چکا ہے۔

اپریل میں نیا صدر منتخب ہو گا جس کو وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہو گی اور جس پر طالبان اعتماد کرسکیں گے۔ لیکن کیا امریکہ اور نیٹو طالبان کے ساتھ مذاکرات پر حکومت کی مدد کرنے کو تیار ہوں گے؟

اگر ان مسائل پر حامد کرزئی کے ساتھ بات چیت نہیں کی جاتی تو اس کے نتائج بہت برے ہوں گے۔اور اگر ایسا ہوتا ہے تو دنیا دوبارہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مداخلت نہیں کرے گی اور ہمسائے کنٹرول کے لیے اپنے من پسند گروہوں کو مسلح کریں گے۔

امریکی انخلا کے ساتھ ان اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار مفاہت کار کی ضرورت ہے جو تمام فریقوں کو ایک نکتے پر لا سکے۔

یہ کردار اقوام متحدہ یا یورپی یونین یا ناروے، جرمنی جیسے غیرجاندار ممالک ادا کرسکتے ہیں۔

یہ وقت ہے کہ مغربی انخلا کی جگہ ایک مرکزی مغربی سفارتی کوشش کی ابتدا کی جائے۔

اسی بارے میں