بھارت:گوا میں منہدم عمارت سے 15 لاشیں برآمد

Image caption بھارت میں زیر تعمیرعمارتوں کا گرنا نئی بات نہیں ہے

بھارتی ریاست گوا میں زیرِ تعمیر عمارت کے انہدام کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔

یہ واقعہ گوا کے دارالحکومت پنجي سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبے كیناكونا میں سنیچر کو پیش آیا تھا۔

اب عمارت منہدم ہوئی تو اس وقت اس میں 40 مزدور موجود تھے اور گوا پولیس کے انسپکٹر جنرل او پی مشرا نے اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہاب تک 15 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حادثے میں 13 افراد زخمی بھی ہوئے جن کا علاج جاری ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق تین منزلہ عمارت کے زمیں بوس ہوجانے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ ریاست کے وزیر اعلی منوہر پاریکر نے دیگر حکام کے ساتھ جائے حادثے کا معائنہ کیا اور نقصانات کا جائزہ لیا۔

اس سے قبل گوا کے وزیر اعلی نے گذشتہ رات نامہ نگاروں کو بتایا تھا ’عمارت دوپہر تقریبا تین بجےگری۔ ملبے سے آٹھ لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔‘

ملبہ ہٹانے کے لیے کرینیں جائے وقوع پر پنچ چکی تھیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر مقامی ہسپتال پہنچایا گیا جب کہ جائے حادثہ پر ڈاکٹر اور نرسیں زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی نظر آئی ہیں۔

Image caption رات دیر رات تک ملبے سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری تھا

حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے گرنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

ابھی بھی یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید افراد ملبے میں دبے ہو سکتے ہیں۔

وزیر اعلی نے بتایا ’ملبے میں کتنے لوگ دبے ہو سکتے ہیں اس کا صحیح اندازہ نہیں ہے لیکن بلڈر نے پولیس کو بتایا ہے کہ عمارت گرنے کے وقت 40 سے زیادہ مزدور وہاں کام کر رہے تھے۔‘

دوسری جانب آئی جی او پی مشرا کا کہنا ہے کہ پولیس نے متعلقہ بلڈر، كنٹریكٹر اور ان سے منسلک دیگر افراد کے خلاف مجرمانہ عفلت کا مقدمہ درج کیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زیر تعمیر عمارت تاش کے پتوں کی طرح زمین پر آ گری جو كیناكونا کی ایک مصروف سڑک کے کنارے تعمیر کی جا رہی تھی۔

بھارت میں اس سے قبل ممبئی کے قریب تھانے میں گذشتہ اپریل میں ایک عمارت کے گرنے سے 72 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایسے حادثات سستے گھر بنانے اور خراب تعمیراتی سامان کے استعمال کا نتیجہ ہیں۔

اسی بارے میں