آٹھ سالہ خود کش حملہ آور پکڑی گئی

Image caption وزارتِ داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کے مطابق ایک افغان فوجی نے بچی کو خود کش جیکٹ پہنے دیکھ لیا تھا

افغانستان میں وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اتوار کی شب ہلمند کے صوبے میں ایک آٹھ سالہ بچی پکڑی گئی ہے جو خودکش جیکٹ پہنے سرحدی پولیس کی چوکی پر حملہ کرنے والی تھی۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ بچی ایک معروف طالبان کمانڈر کی بہن ہے اور اس وقت وہ تزبذب اور پریشانی کے عالم میں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس بچی کو اس کے بھائی نے حملہ کرنے پر اکسایا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کے مطابق ایک افغان فوجی نے بچی کو خود کش جیکٹ پہنے دیکھ لیا تھا۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ یہ بچی خود کش جیکٹ کا بم پھاڑنے کے بٹن کا استعمال نہ کر سکی ہو یا پھر اسے اس سے پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا ہو۔

اس بچی کو صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

ادھر حال ہی میں برطانیہ کی فوج کے سربراہ نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان اپنے کھوئے ہوئے علاقوں پر دوبارہ قابض ہو سکتے ہیں۔

برطانوی فوج کے جنرل سٹاف کے سربراہ سر پیٹر وال نے کہا کہ آئندہ سال کے اختتام تک افغانستان سے برطانوی فوجیوں کے انخلا کے ساتھ اگر بعض علاقے دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جائیں تو یہ ’بالکل بری خبر ہوگی۔‘

دوسری جانب برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ ماہ ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ برطانوی افواج نے افغانستان میں اپنا مشن مکمل کر لیا ہے۔

نیٹو کے سربراہ آنریس فو راس موسن نے بھی کہا ہے کہ بین الاقوامی افواج جس کے مقصد کے لیے افغانستان آئیں تھیں انھوں نے وہ مقصد ’شدت پسندوں کو افغانستان کو بطور محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے سے روک‘ کر حاصل کر لیا ہے۔

اسی بارے میں