بھارت میں دلتوں کا یوٹیوب چینل

دلت کیمرہ کے نام سے شروع ہونے والے ایک مقبولِ عام یوٹیوب چینل بھارت میں دلت برادری کی معاشرتی جدوجہد کا محور بنتا جا رہا ہے۔

خواتین اور دلت کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن ریکھا راج ہاتھ میں مائیکرو فون پکڑے بھارت کی جنوبی ریاست کیریلا کے شہر کوٹیام کی سڑک کے کنارے کھڑی یہ کہہ رہی تھیں کہ ان کے خیال میں دہلی میں ریپ ہونے والی لڑکی کے حق میں عوامی مظاہروں کی اگر کوئی سیاسی اہمیت تھی تو وہ یہ تھی کہ اس میں بھارت کے متوسط طبقے کے لوگ شامل تھے۔

سڑک پر سکوٹر اور موٹر سائیکلوں پر سوار لوگ اپنی رفتار آہستہ کر کے ریکھا کی آواز سننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ٹریفک کے شور میں ان کی آواز صاف طور سنائی نہیں دیتی۔

ریکھا دلت کیمرہ پر دہلی میں 23 سالہ لڑکی کے ساتھ ریپ کے بعد عوامی مظاہروں کی لہر کی سیاسی اہمیت پر بات کر رہی ہیں۔

بھارت میں ذاتوں میں تقسیم معاشرے میں دلتوں کو سب سے نچلے درجے کے انسان تصور کیا جاتا ہے اور وہ انتہائی غربت کا شکار ہیں۔ بھارت کی آبادی میں ان کا تناسب سولہ فیصد ہے اور انھیں مجبوراً کم اجرت اور انتہائی محنت طلب کام کرنے پڑتے ہیں۔

معاشرے میں اس تقسیم کو ختم کرنے کے بہت سے منصوبوں کے باوجود انھیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یو ٹیو پر یہ چینل اصل میں بھارت میں دلت طبقے کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا دلتوں کے زاویہ نگاہ سے ریکارڈ رکھنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

اس کی بنیاد بٹہارن رویچندراں نے رکھی تھی جو حیدرآباد میں فارن لینگویج یونیورسٹی میں انگریزی زبان میں ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں۔

دو سال پرانے اس چینل میں 23 افراد پر مشتمل عملہ کام کر رہا ہے جن کے پاس چار ویڈیو کیمرہ ہیں اور ان کے ایک ہزار چار سو ناظرین ہیں۔ ان کی کچھ ویڈیو فلمیں پچاس ہزار مرتبہ بھی دیکھی گئی ہیں۔

رویچندراں کا تعلق ایسے دلتوں سے ہیں جو بیت الخلا کی صفائی کا کام کرتے ہیں۔

وہ بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو کے ایک ایسے ضلعے سے ہیں جہاں ان کی ’جاتی‘ یا ذات کے وہ پہلے فرد ہیں جنہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس وقت دلتوں پر ہونے والی زیادیتوں کو فلمبند کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب یونیورسٹی میں ان پر بیس طالب علموں نے حملہ کر دیا تھا۔

رویچندراں نے کہا کہ اس واقع نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

انھوں نے کہا کہ دلت اور ان کے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتیوں پر ذرائع ابلاغ بالکل خاموش رہتا ہے اس لیے انھوں نے دلت کیمرہ کا آغاز کیا تاکہ دلتوں کو آواز دی جا سکے۔

حال ہی میں دلت کیمرہ نے دہلی میں گینگ ریپ کے واقع پر دلت خواتین کے درمیان بحث کی ویڈیوز جاری کی ہیں جو کی اقساط پر مشتمل ہیں۔

ان میں سے اکثر خواتین کا کہنا تھا کہ اونچی ذات کے زمیدار لوگ جو نچلی ذات کی خواتین کو کھیتوں پر کام کرنے کے لیے ملازم رکھتے ہیں انھیں اکثر جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان خواتین کو آواز اٹھانے کا کوئی ذریعہ میسر نہیں ہے اس لیے ان کے خلاف ہونے والے جرائم پر کوئی صدا بلند نہیں ہوتی۔

کچھ خواتین کا خیال تھا کہ بھارت میں عورتوں کے ساتھ زیادیتوں کا قصہ کسی ایک ذات یا طبقے تک محدود نہیں ہے۔

بچوں اور عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن لکن سبہودی نے دہلی گینگ ریپ کے بعد اپنے دوستوں کو دلت کیمرہ پر بھارت میں خواتین کی حالت زار پر بات کرنے کے لیے تیار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں کوئی عورت بھی محفوظ نہیں ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ صرف نچلی ذات کی عورت کو ہی ریپ کا نشانہ بنایا جائے۔

دلت امور پر مطالعہ کے پروفیسر کے ستیانارائن کا کہنا ہے کہ دلت کیمرہ دلت خواتین کے مسائل ہی نہیں بلکہ دیگر متنازع معاملات پر بھی آواز اٹھاتا ہے۔

اس چینل پر سماجی کارکن اور مصنف ارون دتی راؤ، دلت موسیقی اور بھارت کی نیم عریاں فلموں کی اداکارائیں فلمی صنعت پر مردوں کے غلبے پر بات کرتی نظر آتی ہیں۔

ماضی میں دلتوں کی آواز کو اٹھانے کی کوششوں کو اتنی پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

سنہ 1997 پر دلتوں کا ایک اخبار نکالنے کی کوشش بھی کی گئی تھی لیکن اس کو بیچنا مشکل ہو گیا تھا کیونکہ بہت سے دکانداروں نے اس اخبار کو اپنی دکانوں پر رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔

لیکن سنہ 2011 میں دلت کیمرہ کو شروع کیے جانے کے بعد سے اس کو آندھرا پردیش سے باہر بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

اس نے کیریلا، مغربی بنگال میں مقوبلیت حاصل کرنے کے بعد دوسری ریاستوں میں بھی آہستہ آہستہ مقبولیت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔

اسی بارے میں